ابنا: کہا جارہا ہے کہ جمہورت کے حاميوں اور شاہي حکومت کے اہلکاروں کے درميان جھڑپيں اس وقت شروع ہوئيں جب پوليس نے چوبيس سالہ سياسي کارکن محمد مشيمع کے جلوس جنازہ ميں شريک لوگون پر اچانک ہلہ بول ديا۔پوليس نے جلوس جنازہ ميں شريک لوگوں کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گيس اور پاني کي توپوں کا استعمال کيا۔سرکاري طور پر دعوي کيا ہے کہ مذکورہ نوجوان کا انتقال منامہ کے ايک سرکاري اسپتال ميں ہوا ہے۔سرکاري دعوے کے مطابق محمد مشيمع کم خوني کا شکار تھا اور اسے انتيس اگست کو اسپتال ميں داخل کرايا گيا تھا۔سرکاري دعووں کے برخلاف بعض رپورٹوں ميں کہا گيا ہے کہ مذکورہ سياسي کارکن جيل کے اہلکاروں کے ہاتھوں شديد ايذا رساني اور معالجاتي لاپروائي کي وجہ سے شہيد ہوا ہے۔شہيد ہونے والے سياسي کارکن کے وکلا نے عدالت سے استدعا کي تھي کہ ان کے موکل کو اس کي جسماني حالت کي وجہ سے رہا کرديا جائے ليکن عدالت نے انکي اپيل مسترد کردي تھي۔رپورٹ ميں کہا گيا ہے کہ بحرين کي شاہي حکومت کي جيلوں ميں بند کئي اور سياسي قيدي بھي نامعلوم وجوہات اور بيماريوں ميں مبتلا ہوکے اپني جانوں سے ہاتھ دھو بيٹھے ہيں۔ہيومن رائٹس واچ نے اس معاملے شديد احتجاج کرتے ہوئے حکومت بحرين سے وضاحت طلب کي ہے اور جيل ميں سياسي قيديوں کي ہلاکتوں کے واقعات کي فوري تحقيقات کا مطالبہ کيا ہے۔بحرين ميں جہاں امريکي ميرين فوج کا پانچواں بريگيڈ تعينات ہے ، فروري دوہزار گيارہ سے حکومت کے خلاف عوامي تحريک جاري ہے جس کے دوران سرکاري سيکورٹي اہلکاروں کے تشدد کے تنيجے ميں ميں درجنوں افراد شہيد اور سيکڑوں زخمي ہوچکے ہي۔ بڑي تعداد ميں عام شہريوں اور سياسي کارکنوں کو گرفتار کرکے جيلوں ميں بند کرديا گيا ہے اور بعض افراد کو طويل المدت قيد کي سزا سنائي گئي ہے۔نومبر دوہزار گيارہ ميں آزاد تحقيقاتي کمشين کي جاري کردہ رپورٹ کے مطابق بحريني سيکورٹي فورس عوامي احتجاج اور مظاہروں کو روکنے کے لئے طاقت کا بے جا استعمال اور تشدد سے کام لے رہي ہے۔بحرين کے عوام ملک کے بادشاہ شيخ حمد بن عيسي آل خليفہ کو عوامي انقلاب کي تحريک کے دوران شہيد ہونے والوں کي موت کي اصل ذمہ دار سمجھتے ہيں۔
.....
/169