2 اکتوبر 2012 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا ہے کہ غاصب صہیونی ریاست علاقے میں بحران میں اضافہ کرنے کے درپے ہے –

ابنا: صدر مملکت جناب احمدی نژاد نے آج تہران میں ملکی وغیرملکی نامہ نگاروں سے گفتگو کے دوران اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایران کی پرامن ایٹمی سرگرمیوں کے خلاف صہیونی حکومت کے وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو کے بے بنیاد دعووں کے بارے میں کہا کہ صہیونی حکومت علاقے میں کشیدگی میں اضافہ کرنا اور اسلامی جمہوریہ ایران کو جنگ کے میدان میں لانا چاہتی ہے –صدر مملکت نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ ایران نے کبھی بھی کسی جنگ کا آغاز نہیں کیا ہے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں صہیونی وزیراعظم کے اشتعال انگیز بیان کے مقابلے میں ایرانی وفد کی ہوشیاری نے اسرائیلی سازش کو ناکام بنادیا –صدر مملکت جناب احمدی نژاد نے اسی طرح ایران کے خلاف امریکی پالیسیوں کو اسرائیلی پالیسیوں سے متاثر قراردیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو چاہیئے کہ ایران کی قوم کے خلاف اپنی معاندانہ رجحانات کو تبدیل کرے اس لئے کہ ان رجحانات کا جاری رہنا کسی بھی طور امریکی قوم اور امریکی حکومت کے مفاد میں نہیں ہوگا –صدر مملکت نے اسی طرح اقوام عالم  کے مفادات کے دائرے میں اقوام متحدہ کے ڈھانچے میں تبدیلی سے متعلق ایران کی تجویز کا بان کی مون کی جانب سے خیرمقدم کئے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ نیویارک اجلاس میں ناوابستہ تحریک نے اسی دائرہ کار میں اس تحریک کے منصوبوں کا جائزہ لیا –انہون نے ایران میں 20فیصد یورونیم کی پیداوار سے متعلق مغربی ممالک کی مخالفت پر صراحت سے کہا کہ ایران نے اعتماد کی بحالی کے دائرے میں ہمیشہ اعلان کیا تھا کہ اگر "آئي اے ای اے" ایران کی ضرورت کا ایندھن فراہم کردے تو ایران اپنی ایٹمی سرگرمیاں روک دے گا لیکن مقابل فریقوں نے اس اقدام کی انجام دہی سے انکار کیا اور اسی لئے ایران نے اپنی ضرورت کی بنیاد پر ایندھن کی پیداوار شروع کی -

.....

/169