ابنا: ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے شہدائے ڈیرہ اسماعیل خان کی 24 ویں برسی کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ سینکڑوں معصوم اور بے گناہ انسانوں نے جان کے نذرانے پیش کرکے وطن عزیز کی بنیادوں کو مستحکم کیا اور اب تک یہ سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری ہے مگر ہم نے ہمیشہ ملک میں اتحاد و وحدت کی ترویج اور اتحاد بین المسلمین کے عملی نفاذ کے ذریعے ملک کی سالمیت اور دفاع کی عملی جدوجہد کو جاری رکھا اور تمام تر مشکلات و مصائب کے باوجود اس جدوجہد کو ترک نہیں کیا اور اعلی و ارفع اہداف کی خاطر وجود میں آنے والا یہ کارواں رواں دواں ہے۔
علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ ملک دشمن عناصر، قاتل و دہشت گرد اور ٹارگٹ کلرز اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہ ہوپائیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان کی سرزمین سے اپنے آئینی، قانونی، مذہبی اور شہری حقوق کا دفاع و تحفظ کرتے ہوئے جن شہداء نے اپنی جانوں کی عظیم قربانی پیش کی وہ کبھی رائیگاں نہیں جاسکتی کیونکہ سانحہ ڈیرہ اسماعیل خان درحقیقت سانحہ کربلا کا تسلسل ہے اور آج بھی ملک کے طول و عرض میں کربلائیں بپا ہیں یہی وجہ ہے کبھی کراچی، کبھی کوئٹہ، کبھی پاراچنار اور کبھی گلگت و بلتستان مقتل گاہ کا منظر پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ قائد شہید علامہ سید عارف حسین الحسینی کی شخصیت پاکستان میں وحدت امت اور اتحاد بین المسلمین کی علامت تھی۔ پاکستان میں فرقہ وارانہ تعصبات، مسلکی اختلافات، انتہاپسندی، شدت پسندی، جنونیت اور دہشت گردی جیسے سنگین مسائل موجود تھے اور دور حاضر میں بھی ملک کو ان مسائل کا سامنا ہے۔ ان مسائل کے حل کے لئے علامہ حسینی نے اتحاد و وحدت اور صبر و حکمت کا راستہ اختیار کیا تھا ہم بھی ان کے راستے پر قائم ہیں اور ہزارہا قربانیاں دے کر بھی ہم نے اتحاد و اخوت کی راہ کو ترک نہیں کیا۔
سربراہ شیعہ علماء کونسل نے یہ بات زور دے کر کہی کہ اس وقت ملک جن گھمبیر اور نازک حالات سے دوچار ہیں اور اس کے عوام اذیت ناک صورت حال کا شکار ہیں اس کے خاتمے کے لئے بھی ملک کے ذمہ دار اور محب وطن ہونے کے ناطے مخلص ہیں اور امن و امان کے ضامن اداروں اور ریاست کے ذمہ داروں سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ صورت حال کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے ملک سے بدامنی انتشار، دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کا خاتمہ کرتے ہوئے اس کے مرتکب خونی قاتلوں اور انکے سرپرستوں کو بے نقاب کریں اور بڑے بڑے سانحات کے پس پردہ حقائق سے پاکستانی عوام کو باخبر اور آگاہ کریں کیونکہ یہ خطرناک صورت حال لمحہ بہ لمحہ ملک کو تباہی و بربادی کی جانب دھکیل رہی ہے۔
.....
/169