ابنا: غاصب صہیونی ریاست کے وزیراعظم نیتن یاہو نے جمعرات کے دن جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ایران کے خلاف تقریر کرتے ہوئے ایک کارٹون کو حاضرین کے سامنے پیش کیا جس میں دکھایا گیا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام ریڈ لائن کو کراس کرنے والا ہے لہذا اسے روکنے کی کوشش کی جائے۔نیتن یاہو کے بے بنیاد دعوے کے مطابق ایران آئندہ چند ماہ میں ایٹم بم بنانے کے مرحلے تک پہنچ جائیگا۔بہت سے ذرائح ابلاغ نے نیتن یاہو کی اس حرکت کو ایسا مضحکہ خیز ڈرامہ قرار دیا جس نے اسرائیل کی بچی کھچی معمولی ساکھ کو بھی تباہ کر دیا ہے۔نیتن یاہو اپنے گمان میں یہ خیال کر رہے تھے کہ اسطرح وہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے لیکن تین بنیاری وجوہات کی بنیاد پر انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ مشرق وسطی میں صرف اسرائیل کے پاس ایٹم بم موجود ہے لہذا وہ ایران کے ایٹم بم کو خطرہ بنا کر نہیں پیش کر سکتاہے دوسری اہم بات یہ ہے کہ اسرائیل کی جنگ پسندانہ ماہیت سے سب لوگ اچھی طرح آگاہ ہیں تیسری اہم بات یہ ہے کہ ایران نے این پی ٹی کے معاہدے پر دستخط کئیے ہوئے ہیں اور اسکی پر امن ایٹمی سرگرمیاں آئی اے ای اے کی نگرانی میں انجام پارہی ہیں ۔حقیقت یہ ہے کہ غاصب صہیونی ریاست ایک بند گلی میں پہنچ چکی ہے اوروہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرنے پر تیار ہیں چاہے اسکے لئے انہیں اسطرح کے مضحکہ خیز اقدامات کرنے پڑیں جسکا مظاہرہ نیتن یاہو نے جنرل اسمبلی میں کیا ہےبعض تجزیہ نگاروں کے بقول اسرائیل فقط خواب و خیال میں ہی ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کر سکتا ہے ۔نیتن یاہو اور ایہود باراک اس سے پہلے گرمیوں میں حملہ کرنے کا دعوی کر چکے ہیں بعد میں گرمیوں کے آخر میں حملے کا کہا گیا تھا۔اسرائیلی حکام اسطرح کے کئی اعلان کر چکے ہیں لیکن اسکو عملی جامہ پہنانے میں ہرگز کامیاب نہ ہوئے۔اسرائیلی اخبار یدیعوٹ نے ایک مقالے میں لکھا ہے کہ اسرائیلی جنرل ران بیکر نے اپنی حکومت کے عہدیداروں سے کہا ہے کہ ایسی باتیں جن کی سمجھنے کی ان میں صلاحیت نہیں ہے اسکے بارے میں زبان نہ کھولیں۔برطانوی اخبار انڈیپینڈینٹ نے نیتن یاہو کی جنرل اسمبلی کی تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیتن یاہو کے پرانے دعوے ابھی تک ہمیں نہیں بھولے ہیں جس میں اس نے ایران کے ایٹمی پروگرام اور ایٹم بم کے بارے میں مختلف تاریخوں کا اعلان کیا تھا برطانوی اخبار انڈیپینڈینٹ نے مزید لکھا ہے کہ نیتن یاہو یہ کہنا چاہتا تھا کہ ایران اگلے سال کے وسط تک ایٹم بم بنا لے گا البتہ اسرائیل کے سابق وزیراعظم شیمون پرز بھی کہہ چکا ہے کہ ایران انیس و ننانوے میں یعنی تیرہ سال پہلے ایٹم بنا لے گا۔نیتن یاہو نے انیس سو چـھیانوے میں بھی دعوا کیا تھا کہ ایران دوہزار چار میں ایٹم بم بنانے میں کامیاب ہو جائے گا برطانوی اخبار انڈیپینڈینٹ کے بقول اس ایٹم بم کا ابھی صرف کارٹون باقی رہ گیا ہے جسکو نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں دکھایا ہے۔بحرحال اس کارٹون سے عالمی برادری ایران کے ایٹمی پروگرام کی طرف تو متوجہ نہیں ہوئی تاہم نیتن یاہو ضرور ایک سیاسی مسخرے کے طور پر دنیا کے سامنے ظاہر ہوئے ہیں.
.....
/169