28 ستمبر 2012 - 20:30

صدر مملکت نے اپنے دورہ نيويارک کو کامياب بتايا ہے -

ابنا: صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے جمعے کي شام نيويارک سے واپسي پر تہران ميں صحافيوں سے  گفتگو ميں کہا کہ ان کا يہ سفر بہت مفيد رہا - انہوں نے بتايا کہ اس سفر ميں انہوں نے اقوام متحدہ کي جنرل اسمبلي ميں دو تقريريں کيں، ايک تقرير قانون کي حکمراني کے زير عنوان سيکريٹري جنرل کي طلب کردہ چوٹي کانفرنس ميں اور دوسري جنرل اسمبلي کے سربراہي اجلاس ميں کي -انہوں نے بتايا کہ ان دونوں تقريروں ميں انہوں نے عالمي مسائل ميں ايران کا موقف بيان کيا اور اقوام متحدہ نيز عالمي نظام ميں تبديلي کي ضرورت پر زور ديا - انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کي جنرل اسمبلي ايک اہم بين الاقوامي مرکز ہے جہاں تمام  عالمي مسائل ميں نظريات بيان کئے جاسکتے ہيں - صدر مملکت نے کہا کہ موجودہ عالمي حالات ميں جب يہ دنيا ايک  تاريخي دور سے نکل کے دوسرے اہم  دور ميں داخل ہورہي ہے، اس قسم کے اجتماعات ميں ايران کي مشارکت ايک فريضہ اور وقت کي ضرورت ہے - انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ ميں سياسي تقسيم بندي اس طرح ہوئي ہے کہ اس ميں ايک طرف امريکا کي سربراہي ميں سرمايہ دارانہ نظام ہے اور دوسري طرف ايران سميت آزاد اور خود مختار ممالک ہيں - انہوں نے کہا کہ تمام اقوام يہ سمجھتي ہيں کہ ايران اقوام متحدہ ميں ان کي بات کرتا ہے اور اس کي ايک خاص وجہ يہ ہے کہ ايران نے اس بار  ناوابستہ تحريک کے سربراہ کي حيثيت سے  جنرل اسمبلي کے سربراہي اجلاس ميں شرکت کي ہے -انہوں نے اس دورے ميں اپني سرگرميوں کي تفصيلات کا ذکر  کرتے ہوئے بتايا کہ قانون کي حکمراني کے زير عنوان چوٹي کانفرنس اور  جنرل اسمبلي کے سربراہي اجلاس ميں،  عالمي مسائل ميں ايران کا موقف بيان کرنے کے علاوہ ، ايک پريس کا نفرنس سے خطاب کيا ، آٹھ سياسي ملاقاتيں انجام ديں ، مختلف اہم امريکي گروہوں جيسے اينٹي وار گروپ، امريکي دانشوروں، صہیونيت مخالف يہوديوں کي تنظيم کے اراکين   اور امريکا ميں مقيم ايرانيوں سے ملاقات کي -...../169