23 ستمبر 2012 - 20:30

رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا ہے کہ حج کے موقع پر ساری دنیا سے آئے ہوئے مسلمانوں کو خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجود مقدس کی بنا پر اپنے عظیم بھر پور اتحاد کا خوبصورت منظر پیش کرتے ہوئے سامراج کے خلاف گہرے غصے کا اظہار کرنا چاہیے۔

ابنا: رہبرانقلاب اسلامی حضرت آ يت اللہ العظمي خامنہ ای نے آج ایران کی حج کمیٹی کے اراکین سے ملاقات میں اسلام کے عظیم الشان پیغمبر صلی اللہ  علیہ وآلہ وسلم کی شان میں کی گئي گستاخی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ کی عظمت آپ کے چاہنے والوں یہاں تک کہ آپ کے دشمنوں پر بھی واضح ہوگئی۔ آپ نے فرمایا کہ اس سال کا حج خاص حالات میں انجام پائے گا اور گذشتہ برسوں سے الگ ہے۔ رہبرانقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے پیغمبر رحمت، عزت اور کرامت مقدس شخصیت کی شان میں گستاخي کو آپ سے سامراجی محاذ کی گہری دشمنی اور کینے کی علامت قرادیا ۔ آپ نے فرمایا کہ اس گھناؤنے توہین آمیز اقدام کے مقابل مغربی حکام نے جو موقف اپنایا ہے وہ دشمنی سے کسی بھی طرح الگ نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی اور اس کے تعلق سے سامراجی ملکوں کے حکام کے مواقف سے ان کا حقیقی چہرہ اور حق و باطل کے پیکار کا بنیادی سبب واضح ہوجاتا ہے  اور یہ بھی واضح ہوجاتا ہےکہ سامراج کی دشمنی دراصل دین اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی سے  ہے۔  رہبرانقلاب اسلامی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات مقدس کو تمام مسلمانوں اور ان کے مذاہب و فرق کے اجتماع کا مرکز قراردیا۔ آپ نے فرمایا کہ اس مسئلےمیں شیعہ، سنی، معتدل اور انتہا پسند کا کوئي معنی نہیں ہے اور سب دل و جان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دفاع کے لئے نکل آئے ہیں کیونکہ آپ کی ذات مقدس عقائد الھی اور اسلام کی محوری اور مرکزی ذات ہے ۔ رہبرانقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمي خامنہ ای نے حج کے موقع پر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شخصیت کے گرد مسلمانوں کے اتحاد کے جاری رہنے پر تاکید کی اور اسے نہایت اہم اور ضروری قراردیا آپ نے فرمایا کہ برائت از مشرکین کے معنی یہ  ہیں کہ سارے مسلمان یہ احساس کریں کہ وہ ایک دشمن کے مقابل کھڑے ہوئے ہیں اور اپنے دل و جان سے اس سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔ رہبرانقلاب اسلامی نے مسلمانوں کو اپنی اس موجودہ عظیم متحدہ تحریک میں تفرقہ ڈالنے کی دشمن کی سازشوں سے خبردار کرتے ہوئے مسلمانوں کی ہوشیاری پر تاکید فرمائي ۔ آپ نے فرمایا کہ دشمنوں اور سامراج کو سمجھ لینا چاہیے کہ  امت  اسلامی مذہبی اختلافات اور بعض فکری اور عقیدتی مسائل میں اختلافات کے باوجود ان کے سامنے ڈٹی ہوئي ہے۔

.....

/169