اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شرکاء نے کہا کہ بحرینی عوام نے آل خلیفہ کے جرائم اور جبر و تشدد اور عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی کے باوجود استقامت کرکے آل خلیفہ اور مغربی طاقتوں کے بے نقاب کردیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے بدھ (19 ستمبر 2012) کو بحرین میں نہتے عوام کے خلاف آل خلیفہ کے وحشیانہ جرائم، انسانی حقوق کی افسوسناک صورت حال اور اس ملک پر اجتماعی سزا کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے، جنیوا میں ایک کانفرنس کا اہتمام کیا تھا۔اس کانفرنس میں قانوندانوں، انسانی حقوق کے فعال کارکنوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے مندوبین نے شرکت کی جنہوں نے بحرینی عوام پر آل خلیفہ حکومت کے منظم جبر و تشدد اور بحرینی عوام کے جائز اور انقلابی مطالبات کے سامنے عالمی کمیونٹی کی مجرمانہ خاموشی اور دوہرے معیاروں کی مذمت کی۔ کویتی پارلیمان کے رکن "عبدالحمید دشتی" نے عربی چینل "العالم" سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: عالمی کمیونٹی بدعنوانی، مفاد پرستی اوردوہری پالیسیوں کا شکار ہوگئی ہے اور تمام بین الاقوامی مبصرین اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں اور بحرین کے عوام کی پامردی اور استقامت نے بین الاقوامی تنظیموں کے گندے چہرے اور ان میں جاری بدعنوانیوں کو بے نقاب کردیا ہے۔ دریں اثناء بین الاقوامی انسانی حقوق فیڈریشن نے آل خلیفہ کے روز کے جرائم کے خلاف زیادہ اہم اور دو ٹوک موقف اپنائے رکھا اور آل خلیفہ کی قانون شکنی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر مبنی ایک بےمثال اور غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے ایک مفصل اور مستند دستاویزی رپورٹ پیش کی۔بین الاقوامی انسانی حقوق کمیشن (International Federation for Human Rights) کے کمشنر نے کہا: بحرینی عوام فروری 2011 میں بحران کے آغاز سے اب تک ہیومین رائٹس کونسل کی توجہ کے حوالے سے اپنا حق حاصل نہيں کرسکے ہیں اور ہیومین رائٹس کونسل اس وقت بحرینی عوام کو یہ حق دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا: ہیومین رائٹس کونسل نے شام، تیونس اور لیبیا کے بارے میں اظہار خیال کیا لیکن بحرین کے سلسلے میں اس کو گونگے پن کا دورہ پڑا اور خاموش رہی۔ آل خلیفہ کی طرف بھیجے گئے وفد کے ایک رکن نے کہا: بحرین کے عوام سمجھتے ہیں کہ احتجاج اور مظاہروں سے انہیں کوئی فائدہ پہنچے گا جبکہ ایسا نہیں ہے!!!بحرینی عوام کے ایک نمائندے نے کہا: بحرین میں عوامی انقلاب جاری ہے اور کوئی چیز بھی اس کو روک نہیں سکے گی۔ بحرینی عوام زندہ، متحرک اور طاقتور ہیں اور کبھی بھی ذلت قبول نہیں کریں گے۔ ایک دوسرے نمائندے نے کہا: پرامن احتجاج فرقہ وارانہ جنگ کا نام نہيں ہے یہ بغاوت بھی نہيں ہے بلکہ عوامی کے حقوق مانگنے کا طریقہ ہے۔ آل خلیفہ کے وفد نے کانفرنس کو درہم برہم کرنے کی کوشش بھی کی لیکن انہيں کامیابی حاصل نہيں ہوسکی۔کانفرنس کی خاص بات:اس کانفرنس کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں آل خلیفہ حکومت کے جرائم کی دستاویزی رپورٹیں پیش کی گئیں اور آل خلیفہ کے نمائندے جواب دینے سے عاجز اور بے بس نظر آئے۔ بحرین کی جمعیت العمل الاسلامی کے سینئر راہنما ہشام االصباغ نے کہا کہ آل خلیفہ کے نمائندے ـ جو انسانی حقوق کونسل کی کانفرنس میں شریک تھے ـ اپنی حکومت کے مظالم اور جرائم کی سینکڑوں مستند دستاویزات کے سامنے بے بس ہوگئے اور کسی بھی الزام کا جواب نہيں دے سکے۔انھوں نے کہا: بحرین کے عوامی نمائندوں نے سینکڑوں دستاویزات کانفرنس میں پیش کیں جن سے آل خلیفہ حکومت کے تمام مظالم اور جرائم طشت از بام ہوگئے۔ انھوں نے کہا: آل خلیفہ کی حکومت نے اپوزیشن راہنماؤں کے الزامات اور دستاویزات کا جواب دینے ـ اور ضرورت کے وقت کانفرنس کو درہم برہم کرنے ـ کے لئے 100 افراد پر مشتمل لشکر جنیوا روانہ کیا تھا اور لشکر کے قیادت اپنے وزیر خارجہ خالد بن احمد آل خلیفہ کو سونپی تھی لیکن خالد بن احمد آل خلیفہ سمیت اس لشکر کے تمام افراد حیرت زدہ تھا اور وہ سمجھ نہیں پارہے تھے کہ جواب کیونکر دیں گے۔ انھوں نے کہا: ایک طرف سے جنیوا میں عوامی نمائندے آل خلیفہ کے جرائم کی دستاویزات پیش کر رہے تھے اور دوسری طرف سے آل خلیفہ کے ہاتھوں حسن عبداللہ کی شہادت کی خبر منظر عام پر آئی اور آل خلیفہ نے شدید ترین حفاظتی اقدامات میں ان کی تدفین کی اجازت دی۔الصباغ نے کہا: آل خلیفہ کے لشکر کے کئی اراکین نے آل خلیفہ حکومت کی کارکردگی اور اس کے رویوں کا دفاع کرنے کی کوشش کی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا جواز پیش کرنا چاہا لیکن ان کے جوابات نہ صرف آل خلیفہ کے لئے سودمند ثابت نہیں ہوئے بلکہ اس حکومت کی سیاسی شکست کا سبب بن گئے۔ انھوں نے کہا: خلیفی وزیر خارجہ نے جواب دیتے ہوئے اپنی حکومت کے سیاہ چہرے کو تبدیل کرنے کی کوشش کی اور کوئی معقول جواب دینے کے بجائے انسانی حقوق کے اداروں کی رپورٹ اور حتی کہ البسیونی کی رپورٹ کو مسترد کیا اور یوں انھوں نے اپنی حکومت کا چہرہ سیاہ تر کردیا۔ انھوں نے کہا: آل خلیفہ حکومت کے مخالفین بحرین میں انسانی حقوق کی صورت حال پر مبنی رپورٹ کو اقوام متحدہ منتقل کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن بعض ممالک [امریکہ، برطانیہ وغیرہ] اس مطالبے کی مخالفت کررہے ہیں۔
بحرینی سیاستدان: بحرین کی آل خلیفہ حکومت جنیوا میں شکست کھا گئی"بحرین کی بہار آزادی" تنظیم کے ایک راہنما نے کہا ہے کہ جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کی کانفرنس میں آل خلیفہ حکومت کے چہرے کی "تعمیر نو" کی کوششیں ناکام ہوگئیں۔اطلاعات کے مطابق "بحرین کی بہار آزادی" تنظیم کے ایک راہنما "محمود آل ربیع" نے کہا کہ آل خلیفہ کے وزیر خارجہ نے اپوزیشن کی دستاویزی رپورٹوں کے جواب میں حقائق کو الٹ پلٹ کر دکھانے کی ناکام کوشش کی اور صرف ان ممالک نے ان کے موقف کی تائید کی جو خود دنیا بھر میں جبر و تشدد میں ملوث ہیں۔ اس بحرینی اپوزیشن راہنما نے کہا: صرف استبدادی اور تشدد پسند ممالک (امریکہ، برطانیہ ۔۔۔) نے آل خلیفہ حکومت کی تائید کی اور اس کو اس کے گناہوں سے بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کی جبکہ ان ممالک نے اس حکومت کی مذمت کی جو خود بھی انسانی حقوق کا لحاظ رکھتے ہیں اور ان ممالک نے آل خلیفہ حکومت سے انسانی حقوق کی رعایت کرنے، اصلاحات انجام دینے اور جبر و تشدد بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ جبکہ آل خلیفہ کے وزیر خارجہ سمیت ایک سو رکنی وفد نے کانفرنس کو غلط اور بے بنیاد معلومات فراہم کیں۔انھوں نے کہا: وزیر خارجہ اور سرکاری وفد کے اراکین نے دعوی کیا کہ بحرین میں مظاہرین اہل سنت کی مسجد میں داخل ہوکر اس کو تباہ کردیتے ہیں اور انھوں نے حقائق کو اس قدر الٹ کر بیان کیا کہ حاضرین ہنسنے لگے اور ان دعوؤ ں کے دوران کانفرنس ہال سے ہنسیوں کی صدائیں سنائی دے رہی تھیں۔ انھوں نے کہا: آل خلیفہ حکومت ذرائع ابلاغ کے ذریعے رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی پالیسی پر کاربند ہے اور ہمیں نہیں معلوم کہ ان کے ہاں ثبوت کیا ہے اور وہ اس غلط بیانی کے لئے کن ثبوتوں کا سہارا لے رہی ہے؟انھوں نے کہا: خلیفی وزير خارجہ صرف ان ملکوں کو راضی کرسکے جو خود بھی خلیفی روشوں پر عمل کررہے ہیں لیکن باقی ممالک کو قائل نہ کرسکے۔الوفاق کے راہنما: آل خلیفہ خاندان انسان حقوق پر یقین نہیں رکھتاحرکۃالوفاق الاسلامی الوطنی کے راہنما نے کہا کہ آل خلیفہ کا نظام ـ جس کی ہیومین رائٹس واچ کی طرف نے بھی مذمت کی ہے ـ انسانی حقوق پر ہرگز یقین نہیں رکھتا۔ اطلاعات کے مطابق بحرین کی سب سے بڑی سیاسی جماعت حرکۃالوفاق الاسلامی الوطنی کے راہنما اور اس جماعت کی مرکزی شوریٰ کے سابق رکن ابراہیم المدہون نے کہا ہے کہ آل خلیفہ کے نظام کو ہیومین رائٹس واچ نے انسانی حقوق کی پامالی کا مجرم ٹہرايا ہے اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے وابستہ کمیشن نے اس حکومت کو 176سفارشات بھجوائی ہیں اور دوسری طرف سے آل خلیفہ کی حکومت نے دعوی کیا ہے کہ اس نے ابھی تک ان سفارشات پرعملدرآمد کیا ہے! یعنی یہ کہ وہ اعتراف کررہی ہے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف وزیوں کا اعتراف کرچکی ہے اور کررہی ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ خلیفی حکومت بین الاقوامی قانون کو پامال کرچکی ہے اور اپنے اوپر عائد ہونے والے تمام الزامات کی تصدیق کرچـکی ہے۔ المدہون نے کہا: انسانی حقوق کونسل کے دوہرے معیاروں کی وجہ سے بحرینی قوم اس کے ان اقدامات کو زیادہ اہمیت نہیں دے رہی ہے کیونکہ ایک طرف سے یہ کونسل بحرین میں تبدیلی کی سفارش کررہی ہے اور دوسری طرف سے تمام تر الزامات ثابت ہونے کے باوجود یہ کونسل بحرین میں انسانی حقوق کی پامالی اور انسانیت کے خلاف خلیفی جرائم کے کیس پر کوئی سنجیدہ اقدام عمل میں لانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی بلکہ صرف زبانی جمع خرچ پر اکتفا کررہی ہے۔ انھوں نے کہا: مثال کے طور پر:آسٹریا نے حکومت بحرین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سیاسی قیدیوں کو فوری طور پر رہا کردے!اورامریکہ نے کہا ہے: ہمیں سفارشات پر خلیفی حکومت کے عملدرآمد کے حوالے تشویش لاحق ہے!اب سوال یہ ہے کہ یہ اس حقیقت کا اعتراف نہیں ہے کہ آل خلیفہ حکومت بحرین میں انسانی حقوق کو پامال کررہی ہے؟!اس بحرینی سیاستدان نے کہا: آل خلیفہ خاندان کی حکومت انسانی حقوق پر سرے سے یقین ہی نہیں رکھتی اور بحرین کی انسانی حقوق کونسل کا سربراہ آل خلیفہ خاندان نے خود مقرر کیا ہے حالانکہ توقع کی جاتی تھی کہ کوئی ایسا شخص اس منصب پر متعین کیا جائے جو حکمران خاندان سے وابستہ نہ ہو۔ المدہون نے مزید کہا: بحرین کے واقعات و حادثات پر نظر رکھنے والے مبصرین بخوبی جانتے ہیں کہ آل خلیفہ کی حکومت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باوجود بین الاقوامی تنقید کئی وجوہات کی بنا پر نظر انداز کررہی ہے اور ان وجوہات میں سے اہم ترین یہ ہیں کہ:آل خلیفہ حکومت کو امریکہ اور برطانیہ کی حمایت حاصل ہےآل خلیفہ کی حکومت کو آل سعود کی مالی امداد مل رہی اور سعودی فورسز اس کا تحفظ کررہی ہیں۔انھوں نے کہا: آل خلیفہ حکومت ملک کے اندر کوئی مقبولیت نہیں رکھتی اور وہ ملک کے اندر کسی بھی چیز کا سہارا نہیں لے سکتی کیونکہ اس حکومت کے پاس کوئی قانونی جواز نہیں ہے کیونکہ بحرین کا وہی آئین ـ جو آل خلیفہ نے تدوین کیا ہے ـ واضح طور پر کہتا ہے کہ "اقتدار کا اصل سرچشم عوام ہیں"۔ المدہون کا کہنا تھا کہ آل خلیفہ حکومت نے انسانی حقوق کانفرنس میں بھی برملا اعلان کیا کہ "اس حکومت کے نزدیک عوامی احتجاج، انسانی حقوق کے عالمی اداروں میں اس حکومت کی مذمت اور عالمی احتجاج کی کوئی اہمیت نہیں ہے" لیکن یہ حالت بھی بہت جلد اختتام پذیر ہوگی اور دنیا کے شرافتمند لوگ انسانی حقوق کی تنظیموں کے توسط سے انسانی حقوق اور ملکی و بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کو ریکارڈ کرائیں گے اور وہ سب آل خلیفہ حکومت کی مذمت کریں گے۔ نائب صدر قومی ڈیموکریٹک سوسائٹی؛ انسانی حقوق کونسل کے صدر بحرین کی صورتحال سے آگاہ ہیں!بحرین کی قومی ڈیموکریٹک سوسائٹی کے نائب س