ابنا: افغان پولیس کےہاتھوں چارامریکی فوجیوں کی ہلاکت کےبعد ترکی کےدورےکےموقع پرامریکی جنریل مارٹین ڈمپسی نے ان حملوں کوسنگین خطرہ قراردیا۔
جنرل مارٹین ڈمپسی نےافغان صدرحامدکرزئی پرالزام لگاتےہوئےکہاکہ انھوں نےان حملوں کوزیادہ سنجیدگی سےنہيں لیاہے۔
گذشتہ دوہفتوں کےدوران افغان پولیس یاافغان پولیس کی وردیوں میں ملبوس افرادنے فوجیوں پرکئي حملےکئے ہیں جس کےبعدسے
امریکہ اورنیٹوکےحکام کےدرمیان بڑےپیمانےپرتشویش پیداہوگئی ہے یہاں تک کہ امریکی صدرباراک اوبامہ بھی افغانستان میں امریکہ اورنیٹوکےفوجیوں کی حفاظت کافرمان جاری کردیا۔
درايں اثناامریکی وزیرجنگ لئون پنیٹانے افغان صدرحامدکرزئی سےگفتگوکےدرمیان نیٹوپرافغان سیکورٹی اہلکاروں کےحملوں کامقابلہ کرنےپرتاکیدکی ہے۔
ادھرنیٹونےاعلان کیاہےکہ کوئی نیاآپشن سامنےآنےتک افغان فوجیوں کی ٹریننگ کاسلسلہ روک دیاگیاہے۔یہ قدم افغان حکومت پردباؤ ڈالنے اورنیٹواورامریکی فوجیوں پرافغان سیکورٹی اہلکاروں کےحملےروکنےکی غرض سےاٹھایاگیاہے۔
لیکن سیاسی تجزیہ نگاروں کواس بات پرشک ہے کہ نیاآپشن یاسیکورٹی سختیاں اس طرح کےحملوں کاسلسلہ روک پائيں گی
کیونکہ افغان عوام نےیہ ثابت کردکھایاہےکہ وہ اپنےملک پرغیرملکی قبضوں کےخلاف ہيں اورافغانستان سےجلد سےجلد غاصبوں کےنکل جانےکےخواہاں ہيں ۔
اس کےعلاوہ غاصب فوجیوں کےہاتھوں ابھی حال ہی میں کنراورلغمان میں عام شہریوں کی ہلاکت کےباعث افغان عوام میں امریکی اورنیٹوفوجیوں کےلئےمزیدغصہ بھڑک اٹھاہے۔
درايں اثناافغانستان میں امریکی اورنیٹوفوجیوں کی جانب سےدین اسلام کےآداب ورسوم کی توہین کاسلسلہ جاری رہنےسےبھی یہ ثابت ہوتاہےکہ ان کی نظرمیں افغان عوام کےقتل عام کی مانند ان کےدینی احکامات ورسومات کی بھی کوئي اہمیت نہیں ہے۔ان حالات میں ایسانظرآتاہےکہ افغان پولیس یاافغان پولیس کی وردی میں ملبوس افغانیوں کےہاتھوں نیٹواورامریکی فوجیوں کاقتل بلاسبب نہيں ہے اوریہ مسئلہ غاصبوں پرنفسیاتی دباؤ کابھی باعث بنا ہے۔
ہلمندميں نیٹوکےفوجی اڈےپرطالبان کاحالیہ حملہ اورچھ جدیدترین جنگی طیاروں کوتباہ کردینااس گروہ کی جانب سےطاقت کےمظاہرہ کاپتہ دیتاہے جوافغانستان پرغاصبانہ قبضہ جاری رہنےکےنتائج کےسلسلےمیں غاصبوں کی تشویش میں پہلےسےزیادہ اضافہ کرسکتاہے۔
.....
/169