16 ستمبر 2012 - 19:30

آیت اللہ العظمی سید صادق روحانی نے پیام/فتوی جاری کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی توہین پر مبنی فلم کا لمحہ بھر مشاہدہ بھی حرام ہے اور تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ ان تمام ذرائع ابلاغ اور سیٹلائٹ چینلز پر اعتراض کریں جو اس فلم کی تشہیر کریں یا اس کو نشر کریں۔ علاوہ ازیں تمام مسلم و غیر مسلم شخصیات اور با اثر افراد سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ پوری قوت اور ہر ممکن طریقے سے اس واہیات فلم کے ریلیز ہونے کا سد باب کریں۔

اہل البیت (ص) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذات با برکات کی نسبت دشمنان اسلام کی قابل نفرت گستاخی پر آیت اللہ العظمی سید صادق روحانی نے ایک پیغام / فتوی صادر کیا ہے۔انھوں نے اس پیغام میں اسلامی ملکوں کے بظاہر مسلمان حکمرانوں پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے: اب نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ توہین آمیز فلم کی ٹیم صہیونیوں کی مدد سے ایسی فلم بناتے ہیں جس میں مسلمان حکمرانوں کی آنکھوں کے سامنے عالم خلقت کی عظیم ترین شخصیت کی توہین کی جاتی ہے؛ لیکن ان حکام میں سے کوئی بھی رد عمل ظاہر نہيں کرتا اور وہ سب اپنی ذلت آمیز خاموشی کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔اس مرجع تقلید نے مذکورہ شیطانی فلم کو حرام قرار دیتے ہوئے لکھا ہے: توہین پر مبنی فلم کا لمحہ بھر مشاہدہ بھی حرام ہے اور تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ ان تمام ذرائع ابلاغ اور سیٹلائٹ چینلز پر اعتراض کریں جو اس فلم کی تشہیر کریں یا اس کو نشر کریں۔ علاوہ ازیں تمام مسلم و غیر مسلم شخصیات اور با اثر افراد سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ پوری قوت اور ہر ممکن طریقے سے اس واہیات فلم کے ریلیز ہونے کا سد باب کریں۔

آیت اللہ العظمی سید صادق روحانی کے پیغام کا متن:

باسم الله المنتقم

خداوند متعال قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

"وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ وَبَآؤُوْاْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللَّهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُواْ يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ الْحَقِّ ذَلِكَ بِمَا عَصَواْ وَّكَانُواْ يَعْتَدُونَ"۔ (سورہ بقرہ آیت 61)

ترجمہ: اور ان پر ذلت اور محتاجى كى مار پڑگئي اور وہ غضب الہى ميں گرفتار ہوگئے يہ سب اس لئے ہوا كہ يہ لوگ آيات الہى كا انكار كرتے تھے اور ناحق انبياء خدا كو قتل كرديا كرتے تھے_ اس لئے كہ يہ سب نافرمان تھے اور ظلم كيا كرتے تھے۔اقسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ: ہر روز سینکڑوں مسلمان یمن، عراق، شام، پاکستان، افغانستان، برما وغیرہ جیسے ممالک سمیت پوری دنیا میں سینکڑوں مسلمان بڑے استکباری ممالک کی حمایت سے قتل ہورہے ہيں اور انسانی حقوق کے دعویدار خاموش ہیں، گویا کہ مسلمانوں کا خون ـ جس کو بہانے سے خداوند متعال نے منع فرمایا ہے ـ پوری دنیا میں بے وقعت ترین خون ہے۔ دوسری طرف سے بعض بظاہر اسلامی حکومتیں ـ مسلم عوام پر استکباری قوتوں کے جرائم و مظالم اور ان کے ہاتھوں اپنی ملتوں کے وسائل اور ثروت، غارت ہونے، کے سامنے کمر خم کئے ہوئے ہیں، گویا اسلام ممالک کے حکمرانوں نے اپنی قوموں پر ان مظالم و جرائم کے سلسلے میں مجرم قوتوں کے ساتھ سمجھوتہ کرلیا ہے۔ اور اس وقت بھی نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ توہین آمیز فلم کی ٹیم صہیونیوں کی مدد سے ایسی فلم بناتے ہیں جس میں مسلمان حکمرانوں کی آنکھوں کے سامنے عالم خلقت کی عظیم ترین شخصیت کی توہین کی جاتی ہے؛ لیکن ان حکام میں سے کوئی بھی رد عمل ظاہر نہيں کرتا اور وہ سب اپنی ذلت آمیز خاموشی کو جاری رکھتے ہيں، حالانکہ اگر ان میں سے کسی ایک کے منصب اور عہدے کو عوامی احتجاج کا سامنا کرنا پڑے تو وہ معترضین اور اپنے ہی مظلوم عوام کے خلاف تشدد آمیز اقدام میں لمحۂ بھر تأمل نہیں کریں گے۔ اسلام ممالک کے حکمرانوں اور سربراہوں کو اپنی خاموشی توڑ کر اور پیغمبر عظیم الشأن صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی کرامت اور وقار و عظمت کی توہین کی مذمت کرتے ہوئے اپنی قوموں کے دوش بدوش اس پست شیطانی عمل سے نفرت کا اظہار کریں؛ اور جان لیں کہ خدا اور تاریخ کے سامنے خاموشی اور لاپروائی کا سہارا نہيں لیا جاسکتا اور ان کی خاموشی اور لاپروائی کا نتیجہ ذلت و خواری اور دردناک عذاب کے سوا کے سوا کچھ نہیں ہے۔ نیز یہاں میرا خطاب امریکی صدر سے نہیں ہے کہ وہ اس مسئلے کے مقابلے میں کوئی موقف اپنائے یا اپنی شرمناک خاموشی کی مہر توڑ دیں، بے شک وہ اور امریکہ کے دوسرے حکمران اسلامی ملتوں کے خلاف کسی بھی موقف سے متفق ہیں لیکن یہاں میرا خطاب امریکی قوم اور عیسائیوں ـ اور عیسائی دنیا کے پوپ اور مذہبی راہنماؤں ـ سے ہے اور وہ یہ کہ ضروری ہے کہ وہ اس ذلت آمیز اور رذیلانہ اور اعلی انسانی اقدار سے دور اقدام کے مقابل شرافتمندانہ موقف اپنائیں اور اس کی مذمت کریں۔ میں بھی اپنی دینی ذمہ داری کو مد نظر رکھ کر، اس شیطانی فلم کی مکمل حرمت کا حکم / فتوی  صادر کرتا ہوں، حتی ایک لمحہ بھر بھی اس فلم کا مشاہدہ حرام ہے اور تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ ان تمام ذرائع ابلاغ اور سیٹلائٹ چینلز پر اعتراض کریں جو اس فلم کی تشہیر کریں یا اس کو نشر کریں۔ علاوہ ازیں تمام مسلم و غیر مسلم شخصیات اور با اثر افراد سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ پوری قوت اور ہر ممکن طریقے سے اس واہیات فلم کے ریلیز ہونے کا سد باب کریں۔آخر میں، میں پر امن اور غیرتمندانہ ریلیوں اور امریکی سفارتخانوں کے سامنے احتجاجی مظاہروں کے سلسلے میں تمام مسلم اقوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور انہیں اپنا کام جاری رکھنے کی دعوت دیتا ہوں تاکہ وہ اپنے احتجاج اور نفرت کی صدا پوری دنیا تک پہنچا سکیں اور استکباری حکومتوں کو بھی جان لینا چاہئے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذات با برکات سرخ لکیر (خط احمر) ہے اور ہم کسی کو بھی یہ لکیر عبور نہيں کرنے دیں گے اور اگر ضرورت پڑے تو اس راہ میں اپنی جانیں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نثار کریں گے۔

وَ سَيعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَي مُنْقَلَبٍ ينْقَلِبُونَ، و  إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ.

سیدمحمد صادق حسینی روحانیشهر مقدس قم؛ 26 شوال المکرم 1433

.................

/110