اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق فائرنگ پولیس رینجرز اور امریکی قونصلیٹ کے اندر سے امریکی گارڈز نے کی تھی جس کے نتیجے میں دو افراد شہید اور کئی زخمی ہوئے اور پولیس نے 70 افراد کو گرفتار کیا ہے۔شہید ہونے والوں میں مولانا صادق رضا تقوی کے بھائی علی رضا تقوی بھی شامل ہیں۔ پولیس نے متعدد عاشقان رسول(ص) کو گرفتار بھی کیا ہے۔اطلاعات کے مطابق لبیک یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) ریلی کو روکنے کے لئے جگہ جگہ روکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں۔اتوار کے دن کو تین بجے مجلس وحدت ہیئت آئمۂ مساجد، اور علمائے امامیہ کے زیر اہتمام شمع رسالت کے پروانے نمائش چورنگی سے امریکی قونصلیٹ تک گئے۔ بڑے بڑے کنٹینرز اور خار دار تاروں کی مدد سے ایم اے جناح روڈ سمیت امریکی قونصلیٹ کی جانب جانے والے تمام راستوں کو بند کیا گیا تھا تاہم ریلی برآمد ہوئی اور فرزندان اسلام نے امریکی قونصلیٹ سے امریکی پرچم اتار کر لبیک یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے جھنڈے لگادیئے۔ اطلاعات کے مطابق عاشقان مصطفی (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) فائرنگ اور شیلنگ کے باوجود لبیک یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے نعرے لگاتے ہوئے رکاوٹیں عبور کر گئے۔ریلی کے شرکاء "شان رسالت پر جان بھی قربان ہے"، "آج جان جائے تو جائے ہم رکنے والے نہیں" جیسے نعرے لگا رہے تھے اور مطالبہ کررہے تھے کہ "امریکیوں کو ملک سے نکال دو یہ گستاخ رسالت ہیں"۔پولیس اور رینجرز سمیت امریکی قونصلیٹ میں تعینات مسلح امریکی گارڈز کی فائرنگ نیز آنسو گیس کے بے تحاشا استعمال کی وجہ سے دو افراد شہید بلکہ متعدد زخمی ہوئے اور پولیس نے درجنوں مظاہرین کو گرفتار کیا اور اس کے بعد پولیس و رینجرز کی فائرنگ اور نوجوانوں کی گرفتاریوں کیخلاف احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ دھرنے کے شرکاء کا کہنا ہے کہ جب تک بے گناہ محافظین رسالت کو رہا نہیں کیا جاتا دھرنا جاری رہے گا، اس موقع پر مظاہرین ’’لبیک یا رسول اللہ (ص) اور لبیک یاحسین (ع)‘‘ کی صدائیں بلند کر رہے ہیں۔ مجلس وحدت مسلمین کراچی اور امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زیراہتمام نکالی گئی ’’لبیک یا رسول اللہ (ص)‘‘ ریلی کے ہزاروں شرکاء نے پولیس و رینجرز کی فائرنگ اور نوجوانوں کی گرفتاریوں کے خلاف نمائش پر احتجاجی دھرنا دے رکھا ہے۔ دھرنے کے شرکاء نے نماز مغربین بھی وہاں ہی ادا کی، ان کا کہنا ہے کہ جب تک بے گناہ شیعہ نوجوانوں کو رہا نہیں کیا جاتا دھرنا جاری رہے گا، اس موقع پر مظاہرین ’’لبیک یا رسول اللہ (ص) اور لبیک یاحسین (ع)‘‘ کی صدائیں بلند کر رہے ہیں۔ ادھر جمعیت علماء پاکستان کے رہنماء قاضی احمد نورانی نے بھی مظاہرین سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے دھرنے میں شرکت کی اور خطاب بھی کیا۔دریں اثناء نائب صدر شیعہ علما کونسل سندھ سید کاظم حسین شاہ نقوی نے اپنے بیان میں ناموس رسالت کے پروانوں کی گرفتاریوں اور ان پر فائرنگ اور گیس شیلنگ پر شدید احتجاج کیا اور کہا: رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اور جناب سیدہ خدیجہ (سلام اللہ علیہا) کی شان میں شدید گستاخی کے خلاف شیعان حیدر کرار کی پر امن احتجاجی ریلی پر پولیس کی جانب سے شیلنگ، فائرنگ اور لاٹھی چارج کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ پر امن احتجاجی ریلی پر پولیس کی جانب سے شیلنگ، فائرنگ اور لاٹھی چارج کے احکامات دینے والے افسروں کے خلاف سخت سے سخت قانونی و محکمہ جاتی کاروائی کی جائے۔ایم ڈبلیو ایم کے راہنماؤں نے بھی کراچی میں امریکیوں اور پاکستانی فورسز کی فائرنگ کی مذمت کا اظہار ایک پریس کانفرنس میں کیا اور عظمت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی خاطر زخم کھانے والوں کو سلام پیش کیا۔ ایم ڈبلیوایم کے رہنماؤں نے اسلام آباد میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ناپاک امریکیوں نے رحمۃللعالمین (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی شان اقدس میں جو گستاخی کی ہے اس کی سزا صرف موت ہے؛ پرامن ریلی پر فائرنگ کرنے والے شفاعت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے خود کو محروم کرچکے ہیں اور جو اس ریلی میں شہید ہوئے ان کی عظمت ناقابل انکار ہے۔ انھوں نے کہا: امریکی خبیثوں نے جس طرح کی گستاخانہ فلم بنائی ہے وہ ناقابل بیان ہے؛ عجیب ہے کہ امریکی کہتے ہیں ہم اس کو روک نہیں سکتے ہماری آزادی اظہار کے خلاف ہے یہیں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فلم امریکی منصوبہ بندی کا حصہ ہے اور وہ ہماری غیرت کا امتحان لینا چاہتے ہیں ہم عظمت مصطفی (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی خاطر ہزار بار جانیں قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیوایم علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے تین روزہ سوگ کا اعلان کردیا اور پرامن مظاہرین پر فائرنگ کی شدید مذمت کی۔ایک شیعہ ویب سائٹ نے وضاحت کی ہے کہ گویا شہیدوں کی تعداد دو نہیں بلکہ ایک ہے اور ایک نوجوان کے سر میں گولی لگنے کہ وجہ سے ول کومے میں گئے تھے جو ہوش میں آگئے ہیں لیکن ان کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔ کراچی کی لبیک یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) ریلی کی ایک خاص بات یہ تھی کہ اس میں تمام جماعتوں اور تنظیموں کے حامیوں نے شرکت کی تھی اور اس میں اتحاد اور یکجہتی کے ایمان افروز مظاہر دیکھنے کو ملے اور یہ حقیقت عینی صورت میں دکھائی دی کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر دشمنان اسلام کی یلغار نے پورے عالم اسلام کو غم و غصے میں مبتلا کررکھا ہے لیکن یہ مسلمانان عالم کے اتحاد کا سبب بھی ہے......../110




















