14 ستمبر 2012 - 19:30

مصر کے مفتی اعظم: بیان اور عقیدے کی آزادی کا مطلب دوسروں کے دینی مقدسات کی توہین نہیں ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی توہین پر مبنی فلم کی تیاری کروڑوں مسلمانوں کی توہین ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مصر کے مفتی اعظم ڈاکٹر شیخ علی جمعہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شان میں گستاخی پر مبنی فلم کی تیاری پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کہ بیان اور عقیدے کی آزادی کا مطلب یہ نہيں ہے کہ دوسروں کے عقائد کی توہین کی جائے اور بیان اور عقیدے کی آزادی مقدسات کی توہین کا جواز فراہم نہيں کیا جاسکتا اور پھر مقدسات کی توہین بذات خود انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے چنانچہ عقیدے اور بیان کی آزادی کے بہانے دوسروں کے حقوق پر حملہ نہیں کرنا چاہئے۔انھوں نے کہا: میں انتہا پسند قبطیوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی توہین پر مبنی فلم کے تمام ذمہ داروں کے اس اقدام کی مذمت کتاوں ہوں کیونکہ اس فلم نے دنیا کے کروڑوں مسلمانوں کی توہین کی ہے اور ان کے جذبات کو مجروح کردیا ہے۔ مفتی مصر نے انسانی حقوق کے مدافعین، دینی اور مذہبی اداروں، عقلاء، دانشوروں اور مفکرین سے مطالبہ کیا کہ اخوت باہمی کا تحفظ کرتے ہوئے انسانی حقوق کی اس خلاف ورزی اور مختلف ادیان کے مقدسات کی توہین کے خلاف موقف اپنائیں تا کہ دنیا میں عشق و محبت اور برادری کی ثقافت فروغ پاسکے۔دوسری جانب سے دنیا بھر میں 120 قبطی عیسائی تنظیموں اور اداروں نے اپنے قائدین کے دستخطوں سے ایک مراسلہ جاری کیا ہے اور امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس فلم کو ریلیز نہ ہونے دے۔

..........

/110