ابنا: امريکي دفتر خارجہ کي ترجمان وکٹوريہ نولينڈ نے اقوام متحدہ ميں فلسطين کو تسليم کئے جانے کے سلسلے ميں فلسطينيوں کي تازہ کوششوں کي مخالفت کي –فلسطيني انتظاميہ کے سربراہ محمود عباس نے چند روز قبل رام اللہ ميں ايک پريس کانفرنس ميں کہا تھا کہ ستائيس ستمبر کو وہ ايک بار پھر اقوام متحدہ ميں ايک درخواست پيش کريں گے جس ميں فلسطين کو ايک آزاد مملکت کے طور پر تسليم کئے جانے اور اس کو اقوام متحدہ کا ممبر بنائے جانے کا مطالبہ کيا جائے گا - واضح رہے کہ پچھلے چند مہينوں سے فلسطينيوں نے اقوام متحدہ ميں فلسطين کي رکنيت حاصل کرنے کے لئے اپني کوششيں تيز کردي ہيں اور فلسطينيوں کي ان کوششوں کي عالمي برادري کي جانب سے بھي وسيع پيمانے پر حمايت کي جارہي ہے- اس درميان امريکا وہ واحد ملک ہے جو فلسطينيوں کي مخالفت کرنے کےساتھ ساتھ يہ دھمکي دے رہا ہے کہ اگر اس طرح کي کوئي درخواست سلامتي کونسل ميں پيش کي گئي تو وہ اسے ويٹو کردے گا اور اس نے عملا اس سلسلے ميں فلسطينيوں کي کوششوں کو ناکام بنانے ميں کوئي کسر بھي نہيں چھوڑي ہے - اقوام متحدہ کي جنرل اسمبلي نے سن دوہزار دس ميں واضح اکثريت کے ساتھ ايک قرارداد منظور کي تھي جس ميں کہا گيا تھا کہ فلسطينيوں کو اپني تقدير کا فيصلہ خود کرنے کا حق ملنا چاہئے- اس قرارداد ميں سرزمين فلسطين ميں ايک آزاد فلسطيني مملکت کے قيام کي ضرورت پر زور ديا گيا تھا - ليکن اس کے باوجود امريکا کي کوشش ہے کہ وہ فلسطينيوں کے حق ميں کي جانےوالي عالمي کوششوں کي راہ ميں جيسے بھي ہو رکاوٹيں کھڑي کرےاس کےلئے امريکي حکام بين الاقوامي اداروں ميں فلسطيني عوام کے خلاف طرح طرح کي سازشيں کرتے ہيں –اسي سلسلے ميں امريکي وزارت خارجہ نے گذشتہ برس پوري دنيا کے ملکوں کي طرف سے آزاد فلسطيني مملکت کے قيام اور اس کو اقوام متحدہ کي رکنيت دينے کے عالمي مطالبے کي مخالفت کي تھي –امريکي ايوان نمائندگان نے بھي کچھ عرصے قبل ايک قرارداد منظور کرکے ايک آزاد فلسطيني مملکت کے قيام يا اقوام متحدہ ميں اس کو رکنيت ديئے جانے کے ہر طرح کے اقدام کي مخالفت کي تھي-اسي لئے مبصرين کا کہنا ہے کہ فلسطين کے تعلق سے امريکا کا موقف فلسطيني عوام کے ساتھ امريکي حکام کي گہري اور کھلي دشمني کو ثابت کرتا ہے -...../169
10 ستمبر 2012 - 19:30
News ID: 346806
امريکا نے ايک بار پھر اقوام متحدہ ميں فلسطين کي رکنيت کي مخالفت کا اعلان کيا ہے -