اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے مختلف ممالک میں وہابیوں کے جرائم میں اضافے اور ان جرائم کا سلسلہ انڈونیشیا اور لیبیا تک پہنچنے پر، عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی نے ایک اہم بیان جاری کیا ہے۔اس بیان میں تاریخی شواہد کی بنا پر، استعماری و استکباری طاقتوں کے ساتھ سلفیت کی معیت و ہمراہی و تعاون کو ثابت کردیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ "جب بھی امت اسلامی کی رگوں میں تازہ خون جاری ہونے لگتا ہے اور دشمنان اسلام کو ہرطرف سے مایوسی اور گھٹن کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہابی و سلفی فتنہ گر اپنی تخریبی سرگرمیوں کو شدت دیتے ہیں اور اسلام و مسلمین کی عظمت و قدرت کا راستہ روک لیتے ہیں"۔ اس بیان میں اسلامی بیداری کی بہار کے مقابل میں وہابیوں کی بےعملی اور انفعال کی طرف اشارہ ہوا ہے اور کہا گیا ہے جو حالات سے ناجائز فائدہ اٹھا کر شہیدوں کا خون ثمرآور ہونے کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں اور افراتفری و عدم استحکام کی صورت حال میں اپنی مذموم سازشوں کو بروئے کار لاتے ہیں۔
بیان کا مکمل متن:
بسم الله الرحمن الرحیم
قال الله تعالی في کتابه الکریم: الفتنَةُ أَشَدّ مِنَ القَتْل. (سوره مبارکه بقره ـ آیه 191)
اور فتنہ انگیزی تو قتل سے بھی زیادہ سخت (جرم) ہے۔
منحرف وہابیوں کے اسلام مخالف اقدامات ـ جن میں حالیہ مہینوں میں شدت آئی ہے اور حالیہ ایام میں اپنی عروج کو پہنچے ہیں اور پاکستان میں شیعہ نسل کشی کو جاری رکھتے ہوئے ان کے جرائم اور درندگیوں کا سلسلہ لیبیا اور انڈونیشیا تک بھی پہنچ چکا ہے ـ لیبیا میں مقدس اسلامی مقامات کے انہدام پر منتج ہوئے ہیں۔ اسی سلسلے میں، تھوڑے سے عرصے میں ہی ہم نے دیکھا کہ "پاکستان میں اہل تشیع کی بسوں کو روز روشن روکا گیا اور متعدد شیعہ مسافروں کو شہید کیا گیا"، "انڈونیشیا میں شیعہ باشندوں کو قتل کیا گیا، ان کے گھروں کو نذر آتش کیا گیا اور انہيں بے گھر کردیا گیا"، بحرین میں شیعہ مساجد کو آگ لگادی گئی، قرآن مجید کے نسخے جلا دیئے گئے اور علماء و صحابہ کے مقابر و مزارات کو منہدم کیا گیا"، "شام کے دارالحکومت دمشق میں اس مزار کو شہید کیا گیا جو جگرگوشۂ رسول (ص) حضرت امام حسین علیہ السلام سے منسوب تھا"، "لیبیا کے شہر "زلیتن" میں رسول اللہ (ص) کے سبط اکبر امام حسن علیہ السلام کے پوتے کی قبر شریف کو منہدم کیا گیا"، "لیبیا میں ہی درجنوں حسنی سادات اور شیعیان آل محمد (ص) کو شہید کیا گیا"، اور ایسے جرائم رقم کئے گئے جو کفار و مشرکین، یہود و نصاریٰ کے ہاتھوں نہيں بلکہ ایسے درندوں اور وحشیوں کے ہاتھوں کے ہاتھوں انجام پائے جو مسلمان کہلوانے پر اصرار کررہے ہیں اور یہ سلسلہ ان ہی کے ہاتھوں پورے جہان اسلام میں بدستور جاری ہے۔ ان المیوں کی وسعت کو مدنظر رکھتے ہوئے ـ عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی، دنیا کے کروڑوں مسلمانوں کے ہاں بین الاقوامی فکری و تعلیمی و تہذیبی مرجع کی حیثیت ـ ضروری سمجھتی ہے کہ دنیا والوں کی توجہ درج ذیل نکتوں کی طرف مبذول کروا دے۔1۔ مسلمانان عالم کے لئے اہم ترین توجہ طلب مسئلہ یہ ہے کہ جب بھی امت اسلامی کی رگوں میں تازہ خون جاری ہونے لگتا ہے اور دشمنان اسلام کو ہرطرف سے مایوسی اور گھٹن کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہابی و سلفی فتنہ گر اپنی تخریبی سرگرمیوں کو شدت دیتے ہیں اور اسلام و مسلمین کی عظمت و قدرت کا کا حصول، ناممکن بنا دیتے ہیں۔کیا عجب نہیں ہے کہ جب افغانستان میں مجاہدین نے قابض فوجوں کو شکست دی، "طالبان" نامی گروہ ظہور پذیر ہوا اور اس گروہ نے فتح اور کامیابی کی شیرینی کو مظلوم افغانستان کے لئے تلخی میں بدل دیا؟ کیا یہ ایک حادثاتی واقعہ تھا کہ صدام کے زوال اور عفلقیوں کی حکمرانی کے خاتمے کے ساتھ ہی سلفی دہشت گردوں نے مظلوم عراق کو دھماکوں اور بدامنیوں کے مرکز میں تبدیل کیا؟کیا یہ محض ایک اتفاق ہے کہ آمروں اور استبدادیوں کے خلاف مصر اور لیبیا کے مستضعف عوام کی کامیابی کے بعد خشک مغز سلفیوں نے میدان میں آ کرعوام کے قابل احترام مقدس مقامات پر حملے کرکے فرقہ وارانہ تشدد کے لئے راستہ ہموار کیا؟کیا یہ سوچ سادہ لوحانہ نہیں ہے کہ ہم یہ سمجھیں کہ کفر کے محاذ کی طرف سے مزاحمت محاذ پر بڑھتا ہوا دباؤ ـ جو وہابیوں کی بے انتہا مالی اور تشہیری امداد سے ڈالا جارہا ہے ـ لبنان اور فلسطین میں مسلمانوں کی کامیابیوں اور یہودی ریاست کی شکست فاش، کا نتیجہ نہيں ہے؟!کفر و استعمار اور یہود و نصاریٰ کے ساتھ وہابیوں اور سلفیوں کی ہمآہنگی اور یکجہتی، ان لوگوں کے لئے بہترین جواب کی حیثیت رکھتی ہے جو ابھی تک یہ سمجھتے ہیں کہ وہابیت ایک جعلی مذہب نہيں ہے اور مغرب کی گود میں پروان نہیں چڑھی ہے!2۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ امریکہ اور صہیونیت کے لئے مذکورہ ٹولے کا اجرتی پن صرف جسمانی طور پر حذف کرنے (اور قتل کرنے) اور دہشت گردانہ حملوں تک ہی محدود نہيں ہے بلکہ ابوجہل اور ابو لہب کے یہ وارث ـ جن کو بعض لوگ خوارج کے وارث بھی کہتے ہیں ـ امت مسلمہ کی ثقافت و تمدن کو بھی نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔مسلمانوں کی ثقافتی و تہذیبی علامتوں اور امت مسلمہ کے ماضی کے آثار و مآثر پر دست اندازی اور انہیں نیست و نابود کرنے کا وہابی رجحان خائن آل سعود کی پوری تاریخ جتنا پرانا ہے۔ "مدینہ منورہ کے تاریخی مزار جنت البقیع اہل بیت و صحابۂ رسول (ص) اور شہدائے صدر اول کے مراقد و مقابر شریفہ کا انہدام"، "کربلائے معلی میں فرزند رسول امام حسین (ع) کے حرم کو دو بار غارت کرنا"، "پورے حجاز میں اسلامی تمدن کے تمام آثار کا تدریجی انہدام"، "عراق کے شہر سامرا میں امامین عسکریین (ع) کے حرم مطہر کا انہدام"، "مصری عوام کے لئے قابل احترام بزرگوں کی قبروں کا انہدام اور انہیں نذر آتش کرنا"، "مصر میں ہی مقام رأس الحسین (ع) کو منہدم کرنے کی کوشش"، "شام کے شہر حلب میں محسن بن حسن المجتبی (ع) سے منسوب مزار کا انہدام" اور بالآخر "لیبیا کے شہر زلیتن میں فرزند رسول (ص) امام حسن مجتی (ع) کے فرزند جناب عبدالسلام الاسمر الحسنی کے مزار کا انہدام"، ان افسوسناک تہذیبی جرائم کے نمونے ہیں۔ دریں اثناء دنیا کے عقلاء، کروڑوں اربوں ڈالر صرف کرکے اپنے تاریخی اور قدیمی آثار ـ خواہ وہ دینی ہوں یا غیر دینی ـ کی حفاظت کا اہتمام کرتے ہیں اور ان علامتوں اور نشانیوں کو ـ جو ان کے تمدنی اور ثقافتی پس منظر کی علامتیں سمجھی جاتی ہیں ـ کو فخر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔3۔ ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ وہابیوں اور سلفیوں نے جاگے ہوئے عوام کی آزادی اور استقلال کی تحریکوں اور شہیدوں کے خون کو ہائی جیک کررہے ہیں۔ سب جانتے ہيں یہ ابن تیمیہ کے پیروکاروں اور وہابیوں نے کبھی بھی اسلامی بیداری کی اس بہار میں کوئی مثبت کردار ادا نہیں کیا ہے بلکہ اپنے خودساختہ قواعد ـ منجملہ "الحق لمن غلب = غلبہ پانے والا حق بجانب ہے" اور "لاینعزل السلطان بالفسق = سلطان گناہ اور فسق کی وجہ سے اقتدار سے معزول نہيں ہوا کرتا"، ـ کے تحت مصر کے "حسنی مبارک"، لیبیا کے "قذافی"، بحرین کے "آل خلیفہ" اور بلاد الحرمین پر مسلط "آل سعود" جیسے "اولو الامروں" کی اطاعت کی دعوت دیتے رہے ہیں اور دے رہے ہیں۔ لیکن ان ملکوں میں جب نوجوانوں کا خون ثمر آور ہوا اور طاغوتوں کو تخت سلطانی سے خاک ذلت پر پھینک دیا گیا، یہ کوردل (Blind-Hearted) میدان میں آئے اور انقلابات کی بنا پر معرض وجود میں آنے والی افراتفری اورعدم استحکام کا ناجائز فائدہ اٹھا کر اپنے اہداف کو جامۂ عمل پہنانے لگے ہیں۔4۔ گوکہ بین الاقوامی فورموں اور عالمی تنظیموں سے کوئی امید نہیں کی جاسکتی، لیکن ایک بار پھر ہم ان کے ضمیروں سے پوچھتے ہیں کہ انھوں نے وہابیوں کے انسانیت سوز مظالم اور مغربی ممالک کی طرف سے القاعدہ اور طالبان کی حمایت پر خاموش کیوں ہیں؟!5۔ نیز، علمائے اسلام سے پوچھتے ہیں کہ وہ سعودیوں اور وہابیوں کی خیانتوں اور انسانیت سوز درندگیوں اور جرائم کے سامنے کب تک خاموش تماشائی بن کر رہیں گے؟ کیا وہابی مفتیوں کے فتؤوں سے بے وقوف اور خلیجی شیوخ کی دولت سے مسلح کئے جانے والے دہشت گردوں کے ہاتھوں بےگناہوں کا روزانہ قتل عام اور بےگناہوں کے خون سے ہولی کھیلنے کے روزانہ واقعات چھوٹے گناہوں میں شمار ہوتے ہیں؟ کیا مسلمانوں کے دینی اور تاریخی آثار کا تدریجی انہدام، چھوٹی اور غیراہم مصیبت ہے؟کیا کتابوں کو نذر آتش کرنا اور دنیا کے مسلمانوں کا زندہ جاوید ورثہ راکھ میں بدلنا، امت کے لئے چھوٹا نقصان ہے؟اگر سلفیوں کی خون خواری انڈونیشیا، پاکستان، عراق اور شام سے حرمین شریفین تک پہنچ جائے تو کیا وہ پھر بھی خاموشی اختیار کرکے رکھیں گے؟یا اگر نمائشی اور علم و دانش کے دعویدار وہابی مولوی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حرم شریف کو شہید کرنے کا فتویٰ دے دیں تو یہ حضرات پھر بھی خاموشی اور انفعال اور عدم تحرک اور جمود پر پھر بھی قائم رہیں گے؟6۔ ایک بات انڈونیشیا کی حکومت اور علماء سے:سرزمین مشرق قدیم الایام سے مختلف ادیان اور مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان پرامن بقائے باہمی کی سرزمین رہی ہے۔ علاوہ ازیں، مشرقی ایشیا کے مسلم ممالک کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انھوں نے بغیر فتوحات کے ذریعے نہيں بلکہ اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے؛ لیکن حالیہ برسوں میں اس علاقے کے لئے وہابیوں اور سلفیوں کا "تحفہ"، "تشدد" اور "مذہبی عدم تحمل" کے سوا کچھ بھی نہيں تھا۔ انڈونیشی حکام کو جان لینا چاہئے کہ ان کا ملک اس وقت سلفیت کے انحرافی راستے کے آغاز پر آکھڑا ہوا ہے اور اگر وہ جلد از جلد اس راستے کو بند نہ کریں اور سلفیت کا مؤثر مقابلہ نہ کریں تو یہ ملک بھی عنقریب پاکستان جیسی صورت حال سے دوچار ہوجائے گا اور ایک دن وہ بھی آئے گا جب اس ملک میں کوئی دن قتل و غارت اور دھماکے کے سوا نہيں گذرے گا۔ اس وقت انڈونیشیا سے کمترین توقع یہ ہے کہ "اتوار" کے دن کے واقعات کے قاتلوں کو جلد از جلد سزا دے اور بے گناہ شیعہ قیدیوں کو رہا کردے اور سمپانگ کے علاقے کے بےخانماں شیعیان آل محمد (ص) کو جلد از جلد اپنے گھروں میں لوٹا دے؛ شیعیان انڈونیشیا اس ملک کی بڑی اقلیت کو تشکیل دیتے ہیں اور انہیں تمام اقلیتوں کی طرح شہری حقوق، حق عبادت، اور حق مناسک و مراسمات حاصل ہونا چاہئے۔ عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی آخر میں جرائم پاکستانی، انڈونیشیائی، عراقی اور لیبیائی مسلمانوں کے قتل عام سے لے کر شام اور شمالی افریقہ میں مقدس مقامات کے انہدام سمیت وہابیوں اور سلفیوں کے تمام غیر انسانی اور غیر اسلامی اقدامات کی شدید مذمت کرتی ہے اور عالمی دینی اور اسلامی فورموں اور امت کے علماء سے مطالبہ کرتی ہے کہ ان بھونڈے اعمال پر فوری رد عمل کا اظہار کریں۔ ظاہر ہے کہ مذمتی بیانات اور خطابات ـ اگرچہ ضروری ہیں ـ لیکن کسی ط