ابنا:روس کے وزیر خارجہ سرگئي لاوروف نے ریانووستی سے گفتگو میں روس میں آپک اجلاس کے موقع پرامریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن سے ممکنہ ملاقات کے بارے میں کہا کہ روس اور امریکہ شام میں جمہوری نظام اور کثیر الجماعتی ماحول قائم کرنے کے راستوں پر اختلاف رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کا بنیادی ہدف صدر بشار اسد کی حکومت ختم کرکے عبوری حکومت قائم کرنا ہے اور واشنگٹن یہ کام شام کی حکومت کی شرکت کے بغیر کرنا چاہتا ہے لیکن ہم اسے زور زبردستی مسلط کیا جانے والا طریقہ سمجھتے ہیں۔ روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ شام کے بحران کو حل کرنے کے لئے جینوا کنونشوں پر عمل کیا جائے جس کے مطابق فریقین کو تشدد ختم کرکے مذاکرات شروع کرنے چاہیں۔ انہوں نے کہا کہ شام کے مسائل کا حل مذاکرات سے نکالا جائے، انہون نے کہا کہ روس زور زبردستی مسلط کئےجانے والے حل کو غیر تعمیری سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ باہر سے شام پر مسلط کئے جانے والے راہ ہائے حل پائیدار نہیں ہو سکتے ہیں۔.....
/169