اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بلادالحرمین کے سیاستدان علی الاحمد نے ریاض اور جدہ میں القاعدہ کی بم دھماکوں کی کوشش کے افشاء کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: آل سعود خاندان ملکی رائے عامہ کو گمراہ اور حقائق سے منحرف کرنے کے لئے کوشاں ہے اور اسی بنا پر کبھی ملک میں القاعدہ کی سازشوں کا سہارا لیتا ہے اور کبھی اندرونی واقعات کو بیرونی دنیا سے منسوب کرتا ہے تا کہ ملک میں جاری عوامی تحریک کو دنیا والوں سے چھپا سکے اور ملکی سطح پر انقلابی تحریک کے پھیلاؤ کا سد باب کرسکے۔انھوں نے کہا: سعودی حکومت اذیتکدوں میں جاری واقعات پر پردہ ڈالنا چاہتی ہے اور اس حکومت کی کوشش ہے کہ ایک بار پھر 2003 کے شیووں سے استفادہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس کے تحت وہ جتانا چاہتی ہے کہ دہشت گرد ٹولے ملک میں سرگرم ہوگئے ہیں اور حکومت نے انہیں گرفتار کرلیا ہے اور یہ سب کچھ ایسے حال میں ہورہا ہے کہ القصیم، ریاض، الحد الجنوبی، شمالی علاقوں اور الشرقیہ کے علاقے میں احتجاجی مظاہرے اور دھرنے جاری ہیں اور یہ احتجاجی اقدامات سعودی جیلوں میں بھی معمول بن چکے ہیں۔انھوں نے کہا: ہمارے اس مدعا کا ثبوت یہ ہے کہ القاعدہ کی سازش کے انکشاف کا دعوی ایسے حال میں کیا گیا ہے کہ مبینہ سازش میں گرفتار ہونے والے افراد کو یمنی ظاہر کیا گیا ہے تا کہ دنیا والوں کو بھی اور ملکی عوام کو بھی جتایا جائے کہ سعودی عرب کو بیرونی قوتوں سے خطرہ ہے اور اندرونی تحریکوں میں بھی بیرونی قوتیں ملوث ہیں جبکہ اگر کسی اندرونی گروپ پر الزام لگتا تو حقیقت حال کو سمجھنا آسان ہوتا جبکہ اب اس دعوے کی حقیقت جاننا تقریبا ناممکن ہے۔علی الاحمد نے آخر میں کہا کہ: بیرونی فریقوں کو مورد الزام ٹہرانا اور بیرونی مداخلت یا دہشت گردی کی افواہیں اڑانا، اندرون ملک عوام کو خاموش کرانے اور بیرونی سطح پر ـ القاعدہ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بہانے ـ امریکہ اور مغربی ممالک کی حمایت حاصل کرنے کے سلسلے میں، آل سعود کی جانی پہچانی پالیسی ہے۔یاد رہے کہ آل سعود اور امریکہ شام اور عراق میں القاعدہ کی حمایت کررہے ہیں اور امریکہ کو جہاں بھی مداخلت کی ضرورت پڑتی ہے القاعدہ کو سرگرم کردیتا ہے اور یہ حقیقت اس زمانے میں بالکل واضح اور آشکار ہے۔........../110
26 اگست 2012 - 19:30
News ID: 340403
بلادالحرمین کے ایک سیاستدان نے جدہ اور ریاض میں القاعدہ کی طرف سے بم دھماکوں کی کوشش کو در حقیقت آل سعود کی سازش قرار دیا جس کے تحت سعودی حکمران ملک میں جاری عوامی تحریک کی پردہ پوشی کرنا چاہتے ہیں۔