25 اگست 2012 - 19:30

اسپين کي مختلف ليبر اور ٹريڈ يونينوں نے حکومت کي اقتصادي کفايت شعاري کي پاليسي کے خلاف مسلسل چوتھے ہفتے ميں بھي ملک کے مختلف شہروں ميں مظاہرے جاري رکھے ہيں -

ابنا: ہسپانوي عوام کے ان مظاہروں کا مقصد حکومت کي اقتصادي پاليسيوں کے خلاف جاري تحريکوں کو سرگرم رکھنا اور آئندہ پندرہ ستمبر کو ايک بڑے عوامي مظاہرے کےلئے راستہ ہموار کرنا ہے –دارالحکومت ميڈريڈ ميں مظاہرے کے شرکاء نے وزارت خزانہ کي عمارت کے سامنے اجتماع کيا اورعوام کي رفاہي سہولتوں ميں کمي کے تعلق سے حکومت کي پاليسيوں کے خلاف اپنے غم و غصے کا کھل کر اظہار کيا –اسپين کي ليبر يونين کے ايک سينئر ليڈر خايمہ سردون نے مظاہرين سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  حکومت کو چاہئے کہ غريب اور نادارلوگوں کے خلاف اس طرح کي پاليسيوں سے ہاتھ کھينچ لے- انہوں نے اقتصادي بحران کو حل کرنے کے لئے حکومتي فيصلوں پر احتجاج کرتے ہوئے کہاکہ حکومتي کابينہ مفلس اور غريب لوگوں کي مدد کرنے کے بجائے بے روزگار افراد کو قرضے دينے کي پاليسي پر کام کررہي ہے جبکہ اسپين کا معاشرہ آج ان ہي قرضوں کي ہي وجہ سے ديواليہ ہوگيا ہے-    اسپين ميں ليبر کميشن يونين اور جنرل ليبر يونين دونوں بڑي يونينوں نے اس مظاہرے ميں اعلان کيا کہ اگر اسپين کے وزيرا‏عظم ماريانو راخوي کي حکومت اپني اقتصادي پاليسي پر ريفرنڈم نہيں کراتي ہے تو پھر مختلف يونينيں خود ہي يہ کام کريں گي-    دريں اثناء اسپين کي جنرل ليبر يونين کي ترجمان مسز ايزابل ناوارو نے بھي کہا ہے کہ اگر ہمارے ذريعے کرائے گئے ريفرنڈم کو قانوني حيثيت نہ ملي تو بھي اس کو اخلاقي لحاظ  سے اہميت و اعتبار حاصل ہوگا- دارالحکومت ميڈريڈ کے ساتھ بارسلونا ، ابيدو ، سنٹينڈر ، لوگر ونيو ، سارا گوسا ، مورسيا ، جزائر بالنار ، جزائر قناري ، لاکرونيا ، ارونسہ ، لوگو ، اور اسپين کے کئي ديگر اہم شہروں ميں بھي اس طرح کے مظاہرے ہوئے ہيں -

.......

/169