22 اگست 2012 - 19:30

غاصب صہیوني حکام نے ايران کے خلاف تشہيراتي جنگ تيز کرتے ہوئے ايک بار پھر ايران کے خلاف فوجي حملے کي دھمکياں دي ہيں.

ابنا: صہیوني حکام  اس سے پہلے بھي، امريکا کي مکمل ہماہنگي سے بارہا ايران کي ايٹمي تنصيبات پر حملے کي دھمکياں دے چکے ہيں  ليکن  ناوابستہ تحريک کے سربراہي اجلاس کے قريب آنے پر ايران کے خلاف صہیوني ریاست کي تشہيراتي و نفسياتي جنگ ميں شدت سے، بہت حد تک صيہوني حکومت اور امريکا کے حکام کے اس قسم کے بيانات کا مقصد واضح ہوجاتا ہے -  سياسي حلقوں کا کہنا ہے کہ امريکي حکام بعض نظرياتي اختلافات کے باوجود صہیوني ریاست کے ساتھ اپنے مشترکہ موقف اور نظريئے پر زور دينے کي کوشش کرتے ہيں-  وائٹ ہاؤس کے حکام نے در اصل  اس بات پر زور ديتے ہوئے کہ ايران کے خلاف تمام آپشن کھلے رکھے گئے ہيں، اپني اس لفظي اور تشہيراتي مہم کے ذريعے صيہوني لابي کي خوشنودي حاصل کرنے کي کوشش کي ہے  -    البتہ امريکي ليڈران چاہے ان کا تعلق ڈيموکريٹک پارٹي سے ہو يا ريپبليکن سے ، اسرائيل کي دھمکيوں ميں ان کا براہ راست ساتھ دينے پر ايران کے خلاف پابنديوں کے ساتھ ہي  گفتگو کي اسٹريٹيجي کو ترجيح دينے کي کوشش کرتے ہيں کيونکہ وہ جانتے ہيں کہ صہیوني ریاست اس پوزيشن ميں نہيں ہے کہ ايران پر حملہ کرسکے-

صہیوني ریاست کي فوجي طاقت کے بارے ميں امريکا کے تحقيقاتي مراکز کا تجزيہ بھي اس بات کي تائيد کرتا ہے کہ صہیوني ریاست ايران کے خلاف کوئي فوجي کاروائي انجام دينے کي توانائي نہيں رکھتي اور اگر اس نے اس قسم کي کوئي غلطي کي تو اس کي  يہ غلطي اپني نابودي کے پروانے پر دستخط کرنے کے مترادف ہوگي-

  جو بات مسلم ہے وہ يہ ہے کہ صہیوني ریاست اس وقت تباہ کن اندروني بحران کا شکار ہے اور صہیوني حلقے اچھي طرح جانتے ہيں کہ اگر امريکا نے حمايت نہ کي تو بہت جلد اس حکومت کا شيرازہ بکھر جائے گا  بنابريں وہ ايران کے پر امن ايٹمي پروگرام پر سواليہ نشان لگا کے اور مختلف بہانوں سے امريکا سے زيادہ سے زيادہ امداد حاصل کرنے کي کوشش کرتے ہيں اور ايران کے خلاف ان کي حاليہ دھمکياں بھي انکي  اسي کوشش کا حصہ ہيں –.......

/169