22 اگست 2012 - 19:30

مشرق وسطی میں ساز باز مذاکرات اور صہیونی ریاست کے سلسلے میں سازش پر مبنی نام نہاد خود مختار فلسطینی انتظامیہ کی کاکردگی کے خلاف فلسطینیوں کی جانب سے شدید اعتراضات کۓ گئے ہیں اور مختلف سروے رپورٹوں سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ اس انتظامیہ کو عوامی حمایت حاصل نہیں ہے۔

ابنا: اقوام متحدہ کے بعض حکام نےبھی اس حکومت کے غیر قانونی ہونے اور سازباز مذاکرات میں فریب کا اعتراف کیا ہے۔  اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے خصوصی آرگنائزر رابرٹ سری نے مشرق وسطی نام نہاد امن مذاکرات کے بارے میں صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ نام نہاد فلسطینی انتظامیہ ملت فلسطین کے نزدیک غیر قانونی ہے۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے کمیشنر رچرڈ فالک نے بھی کچھ عرصہ قبل ایک تقریر میں نام نہاد امن مذاکرات کو ایک فریب اور دھوکہ قرار دیا تھا اور کہا کہ ان اقدامات کا فلسطینیوں کو کوئي فائدہ نہیں پہنچا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ فلسطینی عوام اور رائے عامہ ہمیشہ صہیونی ریاست کے ساتھ  ساز باز مذاکرات کی مخالف رہی ہے کیونکہ ان مذاکرات کا نتیجہ اس کے سوا کچھ اور برآمد نہیں ہوا کہ صہیونی ریاست نے اپنی توسیع پسندانہ پالیسیاں جاری رکھیں اور فلسطینیوں پر اپنے تشدد میں بھی شدت پیدا کی۔ سازباز کا عمل شروع ہونے کے بعد فلسطین کے مختلف علاقوں پر صہیونی ریاست کے حملوں کے پیدا شدہ شدت سے اسی حقیقت کی نشاندہی ہوتی ہے۔

مشرق وسطی میں سازباز مذاکرات کے منفی نتائج کے منظر عام پر آنےکے باوجود نام نہاد خود مختار فلسطینی انتظامیہ امریکہ کی ڈکٹیشن کی وجہ سے بدستور قابض اور توسیع پسند صہیونی ریاست کے ساتھ مذاکرات پر اصرار کۓ جارہی ہے۔ مشرق وسطی میں سازباز کے عمل کے آغاز اور اوسلو معاہدہ کۓ جانے کے بعد وجود میں آنے والی اس انتظامیہ کی کارکردگی کا جائزہ لینے سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ اس انتظامیہ کےتمام اقدامات فلسطینی سرزمین میں صہیونی ریاست کی توسیع پسندانہ اور اختلافات ڈالنے پر مبنی پالیسیوں پر عملدرآمد کے تناظر میں کۓ گۓ ہیں۔ انیس سو ترانوے میں صہیونی حکام اور پی ایل او کے رہنماؤں کے درمیان اوسلو معاہدے پر دستخط کۓ گۓ تھے۔ اس کے بعد  انیس سو چورانوے میں نام نہاد خود مختار فلسطینی انتظامیہ کا قیام عمل میں آیا اور یہ انتظامیہ ان بنیادی اور واضح ترین اختیارات سے بھی محروم ہے جو ایک خود مختار انتظامیہ کو عموما حاصل ہوتے ہیں۔

اس لۓ کہا جاسکتا ہےکہ نام نہاد خود مختار فلسطینی انتظامیہ ایک سازش کا نتیجہ ہے اور اسی وجہ سے ملت فلسطین کے نزدیک اس کو قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے۔

فلسطینی مجاہدین کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رکھنے اور فلسطین کے سیاسی میدان میں اختلافات ڈالنے پر مبنی پالیسیوں کی وجہ سے یہ انتظامیہ عملی طور پر فلسطینیوں کے باہمی اتحاد کی راہ میں رکاوٹ بن چکی ہے اور اسی وجہ سے فلسطینی عوام اس انتظامیہ سے نفرت کرتے ہیں۔

فلسطینی عوام کا مطالبہ یہ ہے کہ یہ انتظامیہ صہیونی ریاست کے ساتھ اپنے سازباز کے مذاکرات کا سلسلہ ختم کردے۔ اور فلسطینی عوام کی استقامت کے سلسلے میں اپنے موقف پر نظرثانی کرے۔

فلسطینی عوام کا کہنا ہےکہ اگر نام نہاد فلسطینی انتظامیہ فلسطینی عوام کے نزدیک اپنا مقام بنانا چاہتی ہے تو اسے چاہۓ کہ فلسطینیوں کے درمیان اختلافات ڈالنے اور اجارہ داری پر مبنی اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے مقابلے میں ملت فلسطین کا ساتھ دے۔

بہرحال فلسطینی عوام کے نزدیک اس انتظامیہ کی ساکھ میں کمی عالمی سطح پر اس تنظیم کی ساکھ خراب ہونے کا سبب بنی ہے۔ اور اسی وجہ سے اقوام متحدہ کے حکام نے خاص مقاصد کے تحت اس انتظامیہ کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ 
.....

/169