21 اگست 2012 - 19:30

... ہم آج عالم اسلام میں ہمارا ایک بنیادی مسئلہ ہے اور وہ مسئلہ "قدس" کا مسئلہ ہے۔

امام خامنہ ای نے مسلط کردہ جنگ کے دوران عراقیوں کے ہاتھوں اسیر ہونے والے احرار کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:ہم کیوں عرض کرتے ہیں کہ "بنیادی مسئلہ"؟ کیونکہ مشرق وسطی کی غلط تقسیم اور اس کے معیوب ہندسے (جیومیٹری) کی بنا پر ـ ہماری زندگی بسر کرنے کا یہ خطہ اور ہمارے ان ممالک کو ـ صہیونیوں کے آبادکاری کی سازش کا نشانہ بنایا گیا۔ اگر یہ سازش نہ ہوتی شاید آج اس علاقے کی صورت حال آج کی صورت حال سے مختلف ہوتی۔ یہ جدائیاں، یہ جنگیں، جو علاقے میں وقوع پذیر ہوئیں، یہ مداخلتیں جو دنیا کی جابر قوتوں نے اس علاقے میں کیں، اسی قضيئے کی بنا پر تھیں ... یہ داستان بہت طویل ہے۔ ان کی سعی و کوشش یہ ہے کہ آج اس مسئلے کے دیوار سے لگا دیں۔ دنیائے اسلام کی ذمہ داری ہے کہ سد باب کرے۔ طویل عرصے سے ان کی کوشش رہی کہ فلسطین کا ماجرا بھلا دیا جائے اور کسی حد تک اس سازش میں کامیاب بھی ہوئے۔ کیمپ ڈیویڈ کا معاہدہ اور اس کی اساس پر رونما ہونے والے بعد کے واقعات ـ جو ہماری معاصر تاریخ کے تلخ اور تاریک نقطے ہیں ـ سب اس لئے تھا کہ علاقے کے لوگ سرے سے بھول جائیں کہ فلسطین نام کا کوئی ملک بھی کہیں تھا۔ جس چیز نے ان کے منہ پر مکہ مارا وہ اسلامی انقلاب تھا؛ ہمارے بزرگوار امام رحمۃاللہ علیہ تھے۔ جس روز ہمارا انقلاب اسلامی کامیاب ہوا، بلکہ انقلاب سے بھی پہلے، ہماری انقلابی تحریک کے آغاز سے ہی، فلسطین کا مسئلہ انقلاب اسلام کے بنیادی مسائل میں سے ایک تھا اور اس انقلاب کو عالم اسلام کی توجہ کے عوام میں سے بھی ایک یہی مسئلہ تھا۔ گوکہ انقلاب کی طرف مسلمانوں کی توجہ کے دوسرے بھی کئی عوامل تھے۔ آج ان کی سعی یہ ہے کہ اس کو بے اثر کردیں۔ لیکن اسلامی امت کو انہیں اس بات کی اجازت نہيں دینی چاہئے۔ انھوں نے مسلمانوں کے غیر اہم مسائل میں الجھاکر مصروف کردیا۔ ایک شخص باہر آتا ہے اور شیعہ اور سنی کا مسئلہ سامنے لاتا ہے، شیعہ ہلال کا (وہمی اور بے بنیاد) مسئلہ سامنے لاتا ہے؛ اور آپ سب کے کان کے ساتھ صہیونیوں نے کئی ملین فلسطینیوں پر ساٹھ برسوں سے مظالم ڈھا رہے ہیں، وہ تمہیں نظر نہیں آرہے ہيں؟ اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت کو ـ جس نے یہ پرچم اٹھایا ہوا ہے اور اس کارنامے کو دنیا میں زندہ کرچکا ہے ـ خطرے کے عنوان سے متعارف کراتے ہو؟ کیا خیانت اس سے بڑھ کر بھی ہوسکتی ہے؟ ملت ایران نے اسلامی دنیا کو غیر اہم مسائل میں الجھانے کے سلسلے میں دشمن کی سازشوں میں کامیاب نہیں ہونے دیا ہے اور اس کو کامیاب نہيں ہونے دے گا۔ ملت ایران اس سال توفیق الہی سے، اللہ کی مشیت سے، یوم القدس کے ایک ایسی حرکت کرے گی جو دشمنان اسلام اور دشمنان فلسطین کے منہ پر مکا ثابت ہوگي۔ فلسطین کا مسئلہ اسلامی جمہوریہ کے لئے ایک عام تدبیر یا جوڑ توڑ کا مسئلہ نہيں ہے بلکہ ایک اصولی مسئلہ ہے، اس کی بنیاد اسلامی عقیدہ ہے۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ اس اسلامی ملک کو غاصب قوت اور اس کے بین الاقوامی حامیوں کے چنگل سے نجات دلائیں اور فلسطینی عوام کے سپرد کریں؛ یہ ایک دینی فریضہ ہے؛ تمام مسلمانوں کا فریضہ ہے؛ تمام اسلامی اقوام اور حکومتوں کا فریضہ ہے؛ تمام اسلامی اقوام اور تمام اسلامی حکومتوں کا فریء ہے کہ اس کام کو سرانجام دیں؛ یہ ایک اسلامی فریضہ ہے۔ ہم اس نظر سے مسئلہ فلسطین کو دیکھتے ہیں۔ دوسروں کو بھی اسی نظر سے دیکھنا چاہئے؛ اس مسئلے کو سیاسی کھیلوں اور بازيوں، سیاسی تبادلات، سیاسی لین دین یا خائنانہ سوداگریوں سے دوچار نہ کریں کیونکہ یہ مسئلہ دینی قضیہ ہے، اعتقادی مسئلہ ہے، اور اس کو زندہ رہنا چاہئے۔ اور میں آپ سے عرض کرتا ہوں: جس طرح کہ صبح امید کا ستارہ چمکا ایک بار انقلاب اسلامی میں اور ایک بار مسلط کردہ جنگ میں، ایک بار آپ احرار کی صدام کی اسیری سے آزادی کے وقت، اس قضیئے میں بھی قطعی طور پر امید کا شفق تابندگی کے جوہر جگائے گا اور قطعی طور پر فلسطین ایک بار پھر فلسطینیوں کے پاس لوٹے گا۔ اور یہ جھوٹا اور جعلی زائدہ (Appendage) جغرافئے سے مٹ جائے گا۔ اس میں کوئي شک نہيں ہے۔

......

/110