21 اگست 2012 - 19:30

تہران میں ناوابستہ ممالک کی تنظیم کے اجلاس کا وقت قریب آنے کے موقع پر صہیونی ریاست کے سیاسی اور صحافتی حلقوں کے درمیان اس اجلاس میں مصر کے صدر محمد مرسی کی شرکت پر تشویش پائي جاتی ہے۔

ابنا: مصر اس تنظیم کا موجودہ صدر ہے اور وہ اس تنظیم کے بانیوں میں شامل ہے۔ تہران اجلاس میں اسلامی جمہوریہ ایران کو تین برسوں تک کے لۓ اس تنظیم کی صدارت سونپی جائے گی۔ اس لۓ یورپ کے سیاسی حلقے اور صہیونی لابی کی بھر پور کوشش ہے کہ محمد مرسی اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون اس اجلاس میں شرکت نہ کریں۔ واضح رہے کہ اس تنظیم کا سولہواں اجلاس چھبیس سے اکتیس اگست تک تہران میں ہوگا۔

اسرائيل سے شائع ہونے والے صہیونی اخبار معاریو نے اپنے تازہ شمارے میں لکھا ہے کہ تہران میں بلائے جانے والے ناوابستہ ممالک کے اجلاس میں شرکت پر مبنی محمد مرسی کا فیصلہ ایک مہم جوئي ہے جس سے محمد مرسی کو اجتناب کرنا چاہۓ۔

صہیونی ریاست کے ٹی وی نے بھی کہا ہےکہ محمد مرسی کا تہران جانا ان سب کے لۓ ایک چیلنج ہے جنھوں نے محمد مرسی کو تہران نہ جانےکی نصیحت کی ہے۔ سب سے بڑھ کر سب کے لۓ یہ پیغام ہے کہ عالمی سطح پر مصر کی پوزیشن بدل چکی ہے۔

مصر اس وقت علاقائی تعلقات کے حوالے سے ایک نۓ مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔ جس میں اسرائیل کی کوئي جگہ نہیں ہے۔ اوریہ حقیقت اسرائیل کے لۓ ایک ڈرونا خواب بن چکی ہے۔ اسی حقیقت کے پیش نظر صہیونی اخبار یدیعوت آحارنوت نے تہران اجلاس میں محمد مرسی کی شرکت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اور لکھا ہے کہ محمد مرسی کا دورۂ ایران خطرے کی گھنٹی ہے۔ اس اخبار نےدعوی کیا ہے کہ ایران اور مصر کے تعلقات میں بہتری اسرائیل کے لۓ نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔

ان تمام تر تشویشوں اور ردعمل کے باوجود مصر کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے قاہرہ اور تہران کے تعلقات میں توسیع پر تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران ایک ہمسایہ اور خطے کا طاقتور ملک ہے اور امریکہ اور اسرائیل کے سوا دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات ہیں۔

انقلاب کے بعد مصر کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کوئي ڈھکی چھپی بات نہیں ہے اور مصر کے حکام کے واضح بیانات سے بھی اسی کی تصدیق ہوتی ہے۔

بہرحال یہ بات مسلم ہے کہ موجودہ صورتحال میں تہران میں اجلاس بلاياجانا بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ خاص کر اس بات کے پیش نظر کہ اس اجلاس میں فلسطین کی تقدیر ، مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں اسلامی بیداری اور عالمی امن کو لاحق خطرات جیسے موضوعات کا جائزہ لیا جائے گا۔

مبصرین کا کہنا ہےکہ خطے اور دنیا میں  پیدا شدہ مختلف بحرانوں کے پیش نظر تہران اجلاس دنیا کے حالات کا جائزہ لینےکا ایک سنہری موقع ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تہران میں اس اجلاس کے انعقاد سے ایران کی  سرگرم خارجہ پالیسی اور سفارتکاری کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔ اس لۓ اسرائیلی حکام کا اس اجلاس کے کامیاب انعقاد پر تشویش میں مبتلا ہونا اور اسے اپنی ایک اور شکست جاننا ایک واضح سی بات ہے۔.......

/169