ابنا: اسلام آباد میں عید کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی مسجد جامعہ الصادق کے خطیب علامہ شفاء نجفی نے کہا ہے کہ بابوسر کا واقعہ حکومت کے منہ پر کالک ہے، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ایجنسیاں عوام کا دفاع اور شرپسندوں کا سراغ لگانے میں ناکام ہو چکی ہیں۔ سانحہ چلاس میں ملوث عناصر کو گرفتار کر لیا جاتا تو آج یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عیدالفطر کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
علامہ شیخ شفاء نجفی کا کہنا تھا کہ کتنا افسوس ناک امر ہے کہ دنیا بھر میں لوگ عید منا رہے ہیں لیکن ملت جعفریہ اپنوں کے غم میں سوگ منا رہی ہے۔ شیعہ قوم کی مسلسل نسل کشی جاری ہے لیکن حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ سلسلہ یونہی جاری رہا تو ایک وقت ایسا آئے گاکہ ملک میں خانہ جنگی کی صورتحال پیدا ہو جائے گی اور اس کی ساری ذمہ داری حکومت، ایجنسیاں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عائد ہو گی۔
آج گلگت بلتستان کے عوام عید کو یوم عاشورہ کے طور پر منا رہے ہیں لیکن نہ تو حکومت کو اس کا خیال ہے اور نہ ہی چیف جسٹس آف پاکستان کو، جو ہر بات پر سو موٹو ایکشن لے لیتے ہیں لیکن ملت جعفریہ پر ڈھائے جانے والے مظالم پر وہ خاموش ہیں۔
.......
/169