یہ انتہائی تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں اہل تشیع کے قتل عام کوروکنے کے بارے میں ریاست سمیت تمام سیکوریٹی کی کوئی خاص دلچسپی نظر نہیں آتی، اور نہ ریاستی ڈنڈے سے گھبرایا ہوا میڈیا اس قتل عام اور مظلومیت کے حوالے سے کوئی خاص کام کرسکتا ہے کیونکہ میڈیا نے جہاں بھی آواز اٹھائی وہی پر اس کا گلہ گھونٹ دیا گیا یا پھر اس صحافی کی لاش کسی ویرانے میں پڑی ملی یا شیعہ کلنگ نامی ایک ویب سائٹ نے جب اہل تشیع کی مظلومیت کو اجاگر کرنا شروع کردیا تو ریاست نے اسے بند کردیا اگر خود اہل تشیع آواز اٹھائیں تو فورا مخصوص ڈسک بنادیے جاتے ہیں اور پھر ٹاسک دیا جاتا ہے کہ انہیں ٹکڑے کرو ہراساں کرو ختم کرو ،گلی گلی میں عام آدمی اس صورت حال پر کہتا ہے کہ ہم ہی قتل ہوں ہم ہی کو ریاست جیل میں ڈالے ہم پر ظلم و ستم ڈھائے جس کی تازہ ترین مثال کراچی میں گذشتہ دو تین دن سے ہونے والے واقعات ہیں کہ بے گناہ جوانوں کو فورسز پکڑپکڑ کر لے جارہی ہے
ہم اکثر سوچتے ہیں کہ بنگہ دیش کیسے بنا؟بلوچ کیوں ناراض ہیں؟کیوںملک ٹوٹنے کی بات کی جارہی ہے؟ کیا یہ سب میڈیا کی باتیں ہیں؟لیکن اب بچہ بچہ سمجھ رہا ہے کہ اصل حقیقت کیا ہے
یہ حقیقت اب واضح ہے کہ انتہائی پلان کے ساتھ ایک مخصوص سوچ جو ملک کے تقریبا ہر شعبہ زندگی میں اثر رسوخ رکھتی ہے آفشل یا ان آفشل طور پر اس سوچ کو سپورٹ حاصل ہے جوملک میں اہل تشیع کی نسل کشی کا ایجنڈا رکھتی ہے جس کی جانب ڈان نیوز اخبار نے بھی اشارتا کچھ کہا ہے ،اور اردو زبان کےایکسپریس اخبار نے بھی اسی جانب لکھا ہے
صورت حال ایسی بنتی جارہی ہے کہ سنجیدہ افراد کو عام شیعہ کو سمجھانا مشکل ہورہا ہے کہ وہ ایسے حالات کا سامنا اب بھی پرامن انداز سے کرے و اب بھی صبر سے کام لے ۔
اب شدت سے اس بات کے خطرات پیدا ہو چکے ہیں کہ جبر اور تشددکا جواب کہیں تشدد سے نہ دیا جائے
جو قطعی طور پر نہ صرف ملک و قوم کے لئے درست نہیں بلکہ خود اہل تشیع مکتب کے عقیدے اور اس کی تعلیمات کی بھی خلاف ہے لیکن تنگ آمد بجنگ آمد وہ انسانی ردعمل ہے جو کسی خاص مذہب فرقہ سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ بحثیت انسان ہر انسان پر لاگو ہوتا ہے خاص کر کہ اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہ یہ احساس پیدا ہوجائے کہ ریاست اور ذمہ دار ادارے بھی ان کے ساتھ ناانصافی برتتے جارہے ہیں اور انہیں انصاف نہیں مل رہا خواہ کسی تھانے کا ایس ایچ او ہو یا پھر عالیٰ عدلیہ ،ملکی سربراہ کو یا پھر سیکوریٹی کے ادارے ایک عام شیعہ اپنے لئے نہ صرف اجنبیت کا احساس کرچکا ہے کہ بلکہ اس خود پرہونے والے ظلم میں شریک نظر آنے لگا ہے شاید اسی اجنبیت کے بڑھتے ہوااحساس ہے کہ جسے عالمی سامرج سے اہم آہنگ اداروں نے محسوس کرلیا ہے جس مثال حالیہ دنوں میں ہیومن رائٹس کمیشن اور اقوام متحدہ کی جانب سے سانحہ بابوسرٹاپ پرجاری ہونے والا مذمتی بیان اور شیعہ نسل کشی کی جانب دنیا کو متوجہ کرنا ہے۔جس طرح کی صورت حال جارہی ہے اس دیکھ کر تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ شاید یہ انسانی معاشروں کا آخری وقت ہے
یہاں انصاف اسے ملے گا جس کے پاس لاٹھی ہوگی جو شرافت دیکھائے گا اور انسانی قدروں اور اپنے مذہب کی قدروں کی پابندی کریگا اسے کمزورسمجھ کر مرگ مفاجات سے دوچار کیا جائے گا
ہمارا خیال ہے کہ اب بھی کچھ وقت ہے کہ ایسے اقدامات کئے جائیں جوبڑھتی ہوئی اجنبیت کے خلاء کو پر کیا جاسکے اور آنے والا خطرناک حالات کو روکا جائے.
.......
/169