ابنا: ميانمار کي پانچ اسلامي انجمنوں کے رہنماؤں کي جانب سے جاري ہونے والے مشترکہ بيان ميں کہا گيا ہے کہ صوبہ راخين کے معاملے کو آئين کے مطابق اور پرامن طريقے سے حل کيا جانا چاہيے-
اس بيان ميں مختلف مذاہب کے پيرو کاروں کے درميان اختلافات کو ختم کرنے اور انساني اصولوں کي بيناد پر ايک دوسرے کا احترام کئے جانے کي ضرروت پر زور ديا گيا ہے-
اس بيان پر دستخط کرنے والوں نے ہر قسم کي دہشتگردي، عوام ميں خوف و ہراس پھيلانے اور عوامي املاک کو نقصان پہنچانے کي بھي سخت الفاظ ميں مذمت کي ہے-
اس بيان ميں ميانمار ميں آباد مختلف مذاہب کے پيروکاروں کي موجودگي کي جانب اشارہ کرتے ہوئے مسلمانوں، بودھسٹوں، عيسائيوں اور ہندوں کے درميان مذہبي رواداري کے قيام پر بھي زور ديا ہے-
حکومت ميانمار نے راخين صوبے کے واقعات کي تحقيقات کے لئے ايک ستائيس رکني آزاد کميشن تشکيل ديا ہے جس ميں چھے مذہبي تنظيموں کے نمائندے شريک ہيں-
يہ کميشن سترہ ستمبر کو صوبہ راخين ميں پيش آنے والے حاليہ واقعات کي تحقيقات کرنے اپني رپورٹ ميانمار کے صدر کو پيش کرے گا-
واضح رہے کہ ميانمار ميں مئي اور جون کے مہينے ميں پيش آنے والے واقعات ميں دوہزار سے زيادہ مسلمان جانبحق ہوگئے تھے-
ہزاروں کي تعداد ميں مسلمان بے گھر بھي ہوئے جو پناہ گزين کيمپوں ميں انتہائي کمس مپرسي کي زندگي گزار رہے ہيں-
اسلامي جمہوريہ ايران کي ہلال احمر نے کہا ہے کہ امداد سامان کي پہلي کھيپ بہت جلد ميانمار کے مسلمانوں کے لئے ارسال کردي جائے گي-
اسلامي جمہوريہ ايران ميانمار کے مسلمانوں کے لئے نقد امدادی رقم پہلے ہي ہندوستان ميں مقيم ميانمار کے پناہ گزينوں کے نمائندے کے حوالے کرچکا ہے –
ادھر ايران کي وزارت خارجہ کے ترجمان رامين مہمان پرست نے بتايا ہے کہ ايران چاہتا ہے کہ ميانمار کے مسلمانوں کي معاشي حالت کو بہتر بنانے کے لئے موثر اقدامات کئے جائيں اور ايران کي انجمن ہلال احمر سے اس حوالے منصوبہ بندي کر رہي ہے- انہوں نے ميانمار کے مسلمانوں کي تازہ صورتحال اور اسلامي جمہوريہ ايران کي جانب سے اب تک کئے جانے والے اقدامات کا حوالہ ديتے ہوئے کہا کہ روہنگيا مسلمانوں کے خلاف تشدد کے واقعات کے فورا بعد ايران نے تھائيلينڈ ميں متعين اپنے سفير کو ميانمار روانہ کيا تھا جنہوں نے ميانمار کے اعلي حکام نے ملاقات کرکے اس معاملے پر بات چيت کي تھي-.......
/169