7 اگست 2012 - 19:30

لیبیا کی قومی عبوری کونسل آٹھ اگست کو باضابطہ طور پر اقتدار اس ملک کی قومی کونسل کے حوالے کر رہی ہے۔

ابنا: لیبیا کے ڈکٹیٹر معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد یہ پہلی بار ہے کہ اقتدار پرامن طور پر عبوری قومی کونسل سے عوام کے منتخب نمائندوں کو منتقل ہو رہا ہے۔اقتدار کی منتقلی ایک ایسے وقت میں انجام پا رہی ہے کہ جب حالیہ دنوں کے دوران لیبیا کے شہروں طرابلس بنغازی اور مصراتہ میں متعدد بم دھماکے اور سکیورٹی مراکز پر حملے ہوئے ہیں۔ بدامنی میں اضافے کی وجہ سے ہلال احمر سوسائٹی نے ان تین شہروں میں اپنی سرگرمیاں معطل کر دیں۔ قومی کونسل کے نمائندے صدر کے انتخاب تک ملک کا انتظام چلائیں گے اور ساتھ ہی ملک کا نیا آئین بھی بنائیں گے۔قومی کونسل کے مجموعی دو سو نمائندوں میں سے ساٹھ افراد نئے آئین کی تدوین کے لیے منتخب کیے جائيں گے۔ کہا جاتا ہے کہ خاص افراد آئين کی تدوین کے کمیشن کے لیے چنے گئے ہیں۔ اگرچہ سابق حکومت سے وابستہ دانشوروں اور وفادار افراد کے نام سامنے نہیں آئے ہیں لیکن اس بارے میں افواہیں مختلف جماعتوں اور دھڑوں کے لیے تشویش کا باعث بنی ہیں۔ چھ اگست کو قومی کونسل کے نمائندوں کا اس کونسل کے سربراہ اور اس کے معاونین کے انتخاب کے لیے غیررسمی اجلاس ہوا جس میں قذافی کی اہم مخالف سیاسی شخصیات محمد المغاریف اور ادریس ابوفیاد کا نام قومی کونسل کے ممکنہ سربراہ کے طور پر لیا گيا۔ قومی کونسل کا پہلا باضابطہ اجلاس گیارہ یا بارہ اگست کو ہو گا۔قومی کونسل کو اقتدار منتقل کرنے کے بعد مصطفی عبدالجلیل کی صدارت میں عبوری قومی کونسل تحلیل ہو جائے گی۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ بعید ہے کہ آئندہ دنوں میں لیبیا کی نئی حکومت کے ارکان کا اعلان کر دیا جائے۔محمد جبریل کی قیادت والے اتحاد نے سب سے زیادہ انتالیس نشستیں حاصل کیں۔ محمد سوان کی قیادت والے اتحاد نے سترہ نشستیں جیتیں اور اس طرح یہ اتحاد دوسرے نمبر پر ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اقتدا کی منتقلی کے عمل میں تعطل سے بچنے کے لیے جماعتوں اور گروہوں کے درمیان تعاون کی ضرورت ہے۔ پچاس جماعتوں پر مشتمل اتحاد کے سربراہ محمد جبریل نے قومی کونسل کے انتخابات کے نتائج کے اعلان کے بعد لیبیا میں قومی آشتی کے مذاکرات کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انتخابات میں حقیقی کامیابی لیبیا کے عوام کو حاصل ہوئی ہے۔ ان انتخابات میں ترسٹھ فیصد ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا تھا۔

.......

/169