ابنا: ميانمار کے ايمگيريشن کے وزير کا يہ بيان ايک ايسے وقت آيا ہے جب ميانمار ميں تقريبا آٹھ لاکھ مسلمان گذشتہ کئي صديوں سے اس ملک ميں زندگي بسر کررہے ہيں - دوسري جانب ميانمارکے وزير خارجہ نے دعوي کيا ہے مغربي صوبے راخين ميں حالات اب معمول پر لوٹ رہے ہيں - ان کا يہ بيان ايک ايسے وقت آيا ہے جب اقوام متحدہ کے انساني حقوق کميشن کے نمائندے تھامس اوجہ کوئنتانا ميانمار کے مغربي علاقوں کي صورتحال کا جائزہ لينے کے لئےميانمار کے دورے پرپہنچے ہيں –واضح رہے کہ ميانمار کے مغربي علاقوں ميں نہتے مسلمانوں پر انتہا پسند بودھسٹوں اور حکومتي پوليس و فوج کے حملوں ميں جو گذشتہ کئي ہفتوں سے جاري ہيں اب تک ہزاروں افراد مارے جاچکے ہيں جبکہ ايک لاکھ افراد بے گھرہوگئے ہيں جنھيں سر چھپانے کے لئے کیمپ بھي مہيا نہيں کرائے گئے ہيں - خبروں کے مطابق ميانمار کي مسلم خواتين اور لڑکيوں کے ساتھ حکومتي پوليس اور سيکورٹي فورس کي جنسي زيادتياں معمول بن چکي ہيں - ميانمار سے فرار ہوکر ہندوستان پہنچنے والے پناہ گزينوں کا کہنا ہے کہ حکومتي پوليس اور سيکورٹي فورس کے اہلکار گھروں ميں داخل ہوکر مسلم خواتين اور لڑکيوں کو زبردستي اپنے ساتھ لے جاتے ہيں اور ہفتوں اور مہينوں تک ان کي عصمت دري کرنے کے بعد دوبارہ انہيں واپس گھروں کو لوٹا ديتے ہيں تاکہ يہ مسلمان لڑکياں اور خواتين پوري عمر احساس حقارت ميں ہي اپني زندگي بسرکريں ان پناہ گزينوں کا کہنا ہے کہ بے شمار مسلمان خواتين تو ابھي تک لاپتہ ہيں –دوسري جانب مصر کے جامعہ الازہر کے سربراہ نے مطالبہ کيا ہے کہ ميانمار کے مسلمانوں پر ہورہے ظلم و ستم کو فوري طور پر بند کيا جائے - شيخ الازہر احمد الطيب نے قاہرہ ميں ہندوستان کے سفير آر سوامي ناتھن سے ملاقات ميں کہا کہ ميانمار کے مسلمانوں کا قتل عام فوري طور پر بند ہونا چاہئے - انہوں نے کہا ہم دنيا کے گوشہ و کنار ميں آباد مسلمانوں کي صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہيں -- اس درميان اطلاعات ہيں کہ انڈونيشيا کي غير سرکاري تنظيموں کي ايک ٹيم ميانمار کے مصيبت زدہ مسلمانوں کے لئے امدادي اشياء لے کر ميانمار روانہ ہوگئي ہے.
.......
/169