28 جولائی 2012 - 19:30

صہیونی ریاست کے سیاسی اور خبری حلقوں میں آج کل مختلف طرح کے خیالات اور نظریات کا اظہار کیا جارہا ہے جن میں اسلامی جمہوریہ ایران کا موضوع مرکزی حاصل رکھتا ہے۔

ابنا: صہیونی ریاست کے سیاسی اور خبری حلقوں میں آج کل مختلف طرح کے خیالات اور نظریات کا اظہار  کیا جارہا ہے جن میں اسلامی جمہوریہ ایران کا موضوع مرکزی حاصل رکھتا ہے۔ ابھی صہیونی وزیر جنگ ایہود باراک کے ایران مخالف بیانات کو زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ اسرائيل کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کادیما کے سربراہ شائول موفاز نے کل ایہود باراک کے بیانات پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایران کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کی ایٹمی تنصیبات پر یکطرفہ حملے کے اسرائیل کے لۓ  انتہائي خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔ صہیونی حکام امریکہ  اور بعض یورپی ممالک کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ایران پر ایٹمی ہتھیار بنانے کا الزام لگانے کے ساتھ ساتھ بارہا ایران  کی ایٹمی تنصیبات پر حملے کی دھمکی دے چکے ہیں۔ صہیونی اخبار یدیعوت احارونوٹ نے بدھ کے دن اسرائيلی وزیر جنگ ایہود باراک کے حوالے سے لکھا تھاکہ ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ سب سے زیادہ ترجیح والا آپشن ہوسکتا ہے۔ایہود باراک نے اپنی بات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا بقول ان کے ایٹمی ہتھیاروں کے حامل ایران کا مقابلہ بہت زیادہ خطرناک اور پیچیدہ ہوگا۔شائول موفاز کے بیانات سے صہیونی حکام کے اختلافات کی نشاندہی ہوتی ہے جو بعض اوقات ذرائع ابلاغ کے ذریعے منظر عام پر آجاتے ہیں۔البتہ ان دنوں امریکہ کی ری پبلکن پارٹی کے نامزد صدارتی امید وار میٹ رامنی کے دورۂ مقبوضہ فلسطینی کے باعث یہ مسئلہ زیادہ واضح طور پر منظر عام پر آیا ہے۔میٹ رامنی نے صہیونی اخبار یدیعوت احارنوٹ کو انٹرویو کے دوران ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ ذاتی طور پر وہ اپنے آپ کو ایران کو ایٹمی پروگرام سے روکنے کے لۓ تمام تدابیر اختیار کرنے کا پابند سمجھتے ہیں۔ میٹ رامنی نے اس کے ساتھ اس بات پر بھی تاکید کی کہ صدارتی انتخابات میں کامیابی کی صورت میں وہ امریکہ اور اسرائيل کے اختلافات کو ذرائع ابلاغ کے ذریعے منظر عام پر نہیں آنے دیں گے۔سیاسی حلقوں کا کہنا ہےکہ امریکی حکام اختلافات کےباوجود مشترکہ امور پر تاکید کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ البتہ اس میں شک نہیں کہ امریکہ اور اسرائيل کی پالیسی ایک ہی  سکے کے دو رخ ہیں اور دونوں ایک ہی راستے پر اور ایک ہی مقصد کے لۓ آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس کے باوجود امریکہ کو جو چیز ایران کے سلسلے میں عجلت پسندی میں قدم اٹھانے سے روک رہی ہے وہ چند بنیادی امور ہیں ایک یہ کہ امریکہ کو اس وقت ایک جانب شدید اقتصادی بحران کا سامنا ہے اور دوسری جانب مشرق وسطی سے متعلق اس کی پالیسیاں بھی ناکام ہوچکی ہیں۔ اور اسلامی بیداری کی وجہ سے اس خطے میں اسرائیل کی پوزیشن بہت کمزور ہوچکی ہے جبکہ پابندیوں اور دباؤ کے مقابلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی استقامت و ثابت قدمی اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ ایک ناقابل انکار حقیقت  بن چکا ہے جسے امریکہ کو ایران مخالف ہر طرح کے غیر منطقی اقدام کے سلسلے میں اسے اپنے پیش نظر رکھنا پڑتا ہے۔اس سے بڑھ کر یہ کہ امریکہ جانتا ہے کہ اسرائیل ایران کو حملے کی دھمکی دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اور اس حکومت کو ایران پر حملےکی بھاری قیمت چکانی پڑے گی اور اس کا اپنا وجود ہی ختم ہوجائے گا۔امریکہ اور اسرائیل کے ایران مخالف رویۓ کے جائزے کے سلسلے میںجس چیز کا مدنظر رکھا جانا ضروری ہے وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں امریکہ اور صہیونی ریاست کے  دعووں کا بے بنیاد ہونا ہے کیونکہ ناقابل تردید ثبوت و شواہد سے واضح ہوجاتا ہے کہ ایران پر ایٹمی ہتھیاروں تک رسائي کی کوشش کا الزام ایک سفید جھوٹ ہے اور اس کی تصدیق ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کی متعدد رپورٹوں سے ہوجاتی ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ این پی ٹی معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور اس نے ایٹمی ہتھیاروں تک اسرائيل کی رسائی کے سلسلے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ صہیونی ریاست کے  پاس اس وقت تین سو سے زیادہ ایٹمی وار ہیڈز موجود ہیں جس کی وجہ سے یہ حکومت مشرق وسطی کے علاقے میں واحد ایٹمی خطرہ شمار ہوتی ہے۔ ان تمام امور کے پیش نظر امریکہ اور صہیونی ریاست متضاد رویۓ کا شکار ہوچکے ہیں جس کو عالمی برادری اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے۔  

.......

/169