26 جولائی 2012 - 19:30

ترکی کی سب سےبڑی اپوزیشن جماعت عوامی جمہوری پارٹی کےسربراہ کمال قلیچدار اوغلو نےحکومت کوخبردارکیاہے کہ وہ شام کےسلسلےمیں اپنی پالیسیوں پرنظرثانی کرے۔

ابنا: قلیچداراوغلو کےبقول اگرانقرہ حکومت اپنےشام مخالف موقف پراصرار کرےگی تو مستقبل قریب میں ترکی کو مزید مسائل کاسامناکرناپڑےگا۔ اگرچہ قلیچداراوغلونےاس سلسلےمیں زیادہ وضاحت نہيں کی لیکن بعض غیرملکی ماہرین اور حکام کےبیانات ان مسائل کی قدرے وضاحت کرتےہیں۔ ابھی حال ہی میں ڈنمارک کےایک فوجی جنریل رابرٹ موڈ نے نےجوشام میں اقوام متحدہ کے مبصروفد کےسربراہ ہیں اور زیادہ تر مشرق وسطی کےعلاقےمیں تعینات رہے ہيں جرمن جریدے فوکوس کوانٹرویودیتےہوئےتاکیدکےساتھ کہاہےکہ شام میں نسلی مسائل اور اختلافات اس ملک کےلئے مزید بڑا بحران پیدا کرسکتاہے۔انھوں نےشام کاموازنہ خلافت عثمانیہ سےکرتےہوئےکہاہےکہ گذشتہ چالیس برسوں کےدوران اسدخاندان مختلف نسلوں کےمسائل اوراختلافات کوچھپانے میں کامیاب رہی ہے اوراسی وجہ سے شام کی بعثی حکومت گرنے سے ان مسائل کےپھیلنےکی زمین ہموار ہوسکتی ہے اور اس کی بنا پر مذہبی اورنسلی کینےاوردشمنی کی آگ بھڑک سکتی ہے ۔ جنرل رابرٹ موڈ کےدعوےکےبقول اگرایسا ہوا تو نسلی اورمذہبی جھڑپوں کاسلسلہ اسرائیل، ترکی، عراق، اورلبنان تک پھیل سکتاہے۔ان مسائل میں ایک مسئلہ یہ بھی پیدا ہوسکتاہے کہ پی کےکے دہشتگردعناصر کااثرونفوذ شام میں بڑہ جائے اور وہ اس ملک کی موجودہ صورت حال سےفائدہ اٹھالے۔ترک وزیراعظم رجب طیب اردوغان نے شام کےاندر تک پی کےکے کےٹھکانوں کونشانہ بنانےکی دھمکی دے دی ہے۔ بعض سیاسی ماہرین کاخیال ہےکہ ترکی کی جانب سے شام میں  مسلح گروہوں کی حمایت کی غلطی کی وجہ سے شامی فوج سرحدوں سےپیچھےہٹ گئي ہے اور اس کاکنٹرول پی کےکے، کےعناصر نےسنبھال لیا ہے اور یہ ان کےمضبوط ہونےکاسبب بنا ہے۔ماہرین کےاس گروہ کاخیال ہے کہ شام کےسرحدی گاؤں کےاکثر باشندے کرد ہیں اوریہ گاؤں ترکی پر پی کے کے، کےحملے کااڈہ بن گیاہے۔تجزیہ نگاروں کاکہناہےکہ جب شام کی فوج ان سرحدوں کی حفاظت نہيں کرپائےگی تو پی کےکے، جس کاترکی کےاندر نفوذ بڑھتاجارہا ہے اپنےاقدامات کوعملی جامہ پہناناشروع کردےگی۔اس مسئلے سے ترکی کی قومی سلامتی بری طرح متاثر ہوسکتی ہے اوراس کامطلب شام کی جانب سےپی کےکے، کومسلح کیاجانانہيں ہے۔ یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ شام میں مسلح گروہوں کومسلح کرنےکاعمل مسلسل جاری ہے جس میں ترکی کابہت بڑا ہاتھ ہے اوراسی وجہ سےشامی فوجی سرحدوں سےپیچھےہٹ رہے ہيں جوپی کےکے، کی سرگرمیوں کےلئے مناسب موقع ہے۔ بدہ کےدن سے حکومت انقرہ نے شام سےملحق اپنی تمام سرحدی چیک پوسٹیں بندکردی ہيں ۔ انقرہ حکومت نےاعلان کیاہےکہ یہ قدم ، بشاراسد کی جانب سےشام  ترکی  سرحدی گذرگاہوں کوکنٹرول کئےجانےکی وجہ سےانجام پارہا ہے۔ بہرحال انقرہ حکومت کادعوی ہےکہ وہ اپنی سرحدوں کےاندربحران پرقابوپانےکےلئے بھرپورکوشش کررہی ہے لیکن واضح سی بات ہے کہ ترکی کےلئے دومخاذوں پرلڑنا مشکل ہوگا ایک طرف بشاراسد کی حامی طاقتوں اوردوسری طرف شامی سرحدوں پرموجود پی کےکے، کےعناصر سےلڑائی ، شام میں اسےحاصل ہونےوالےفائدےکےمقابلےمیں اس کے نقصان کوبڑھا سکتی ہے۔

.......

/169