26 جولائی 2012 - 19:30

خطے میں صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ اقدامات خصوصا فلسطینیوں کے سلسلےمیں اس حکومت کی تسلط پسندانہ کارروائیوں میں شدت کے خلاف رائے عامہ نے وسیع پیمانے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عرب ممالک نے اقوام متحدہ سے وابستہ مختلف اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صہیونی ریاست کی توسیع پسندانہ پالیسیوں سے مقابلے کے لۓ ٹھوس اقدامات انجام دیں۔

ابنا: اس سلسلے میں اقوام متحدہ میں عرب ممالک کے ایک وفد نے یونسکو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صہیونی ریاست کو مسجد الاقصی کی بے حرمتی سے روکے۔ ان عرب ممالک نے یونسکوکے سربراہ ایرینا بوکووا کے نام ایک خط ارسال کر کے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مسجد الاقصی کے سلسلے میں صیہونی حکومت کے "آثار قدیمہ" کے قانون کے نافذ کۓ جانے کی روک تھام کریں۔اس وفد نے اپنے خط میں مسجد الاقصی کا مسئلہ  صہیونی ریاست کی کابینہ کے ایجنڈے میں  شامل کۓ جانے کے سلسلے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔  اسرائیل کے اٹارنی جنرل یہودا وائنشٹائن نےدعوی کیا ہے کہ مسجد الاقصی سرزمین اسرائیل کا اٹوٹ حصہ ہے۔ اس لۓ اسرائیل کے قوانین خاص کر آثار قدیمہ اور ان کی تعمیر وغیرہ سے متعلق قوانین اس کے بارے میں بھی نافذ کۓ جانے چاہئيں۔دریں اثناء اقوام متحدہ کے رکن عرب ممالک نے مشرق وسطی سے متعلق  اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے اختتام پر ایک بیان جاری کر کے فلسطینی علاقوں میں صیہونی بستیوں کی تعمیرکا سلسلہ جاری رہنے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے اسرائیلی توسیع پسندی پر خاموشی اختیارکۓ جانے پر تنقید کی ہے۔صہیونی ریاست عالمی تنظیموں کی جانب سے خاموشی اختیارکۓ جانے کی بناء پر خطے میں اپنی توسیع پسندانہ پالیسیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے اور انتہائي بے شرمی کے ساتھ فلسطینی علاقوں پر اپنے قبضے کا دائرہ پھیلانے کے درپے ہے۔صہیونی ریاست فلسطینی علاقوں اور ان میں موجود اسلامی مقامات پر اپنا تسلط مکمل کرنے اور عالمی برادری سے اپنے قبضے کو جائز تسلیم کروانے کے بعد اطمینان و سکون کے ساتھ فلسطینی علاقوں میں موجود مسجد الاقصی سمیت تمام اسلامی مقامات اور عمارتوں کے سلسلے میں اپنے تباہ کن اقدامات انجام دینا چاہتی ہے۔ اس سے فلسطینیوں اور اسلامی مقدسات کے خلاف صہیونی ریاست کی سازشوں کے نئے مرحلے کی نشاندہی ہوتی ہے۔ایسی صورتحال میں عالمی رائے عامہ بین الاقوامی اداروں سے یہ توقع رکھتی ہے کہ وہ صیہونی حکومت کی سازشوں سے مقابلے کے لۓ جلد ازجلد کارروائی کریں گے اور عرب ممالک کی درخواست کا بھی اسی تناظر میں جائزہ لیا جانا چاہۓ۔ 

.......

/169