اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ
دیکھ تو لیں اگر یہ سب لوگ امریکی یا برطانوی یا فرانسیسی یا حتی صہیونی ہوتے تو اقوام متحدہ اور اس کی سلامتی کونسل کیا اتنی خاموشی کو جائز سمجھتی؟ شام میں باغیوں کو مارا جاتا ہے تو اسرائیل کے بچہ کُش اور قاتل حکمران سوگوار منہ بنا کر ٹی وی اسکرین پر ظاہر ہوتے ہیں اور یورپی یونین شام کے خلاف پابندیاں سخت کرتی نظر آتی ہے، آل سعود کی طرف سے دہشت گردوں کو امداد پہنچانے کے لئے خودکش حملہ آوروں کی بولی لگائی جاتی ہے اور چندہ مہم چلائی جاتی ہے، قطر والے اسرائیل کو حملے کی ترغیب دلاتا ہے لیکن برما میں مسلمانوں کو قتل کیا جاتا ہے تو کسی کے کان پر جوں تک نہيں رینگتی۔ دنیا کی آنکھیں اندھی اور کان بہرے ہوچکے ہیں۔ ہمیں دیکھنا چاہئے کہ ہم خود کس مقام پر ہیں؟ دیکھیں شام کے خلاف القاعدہ سے امریکہ و آل سعود اور قطر تک اور اسرائیل و یورپ تک سب متحد ہوچکے ہیں لیکن برمی حکومت کےساتھ مختلف ممالک اپنے تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں؟ کیا ہم بھی اندھے اور بہرے ہیں؟ کیا اب بھی ہمیں یقین نہیں آرہا کہ دشمنان اسلام کبھی بھی اسلام کی خاطر متحد نہيں ہوا کرتے؟؟؟
آنگ سان سوچی سے فرانس میں پوچھا گیا کہ وہ انسانی حقوق کا نوبل انعام بھی لے چکی ہیں وہ برما کے مسلمانوں کے بارے میں اظہار خیال کیوں نہيں کرتیں اور مظلوموں کی حمایت کیوں نہیں کرتیں تو ان کا جواب وہی تھا جس کی مغربی طاقتوں کو امید تھی اور معلوم ہوا کہ وہ نہایت پست تفکرات کی حامل خاتون ہیں جو مغربی حکومتوں کی ضیافتیں اڑانے کا شوق رکھتی ہیں اور بس۔ انھوں نے کہا تھا کہ "مسلمان برما کا حصہ نہيں ہیں انہیں ملک سے چلے جانا چاہئے!"۔ سوچی نے اس بات کو اہمیت ہی نہيں دی کہ وہاں مسلمانوں کے ساتھ بدسلوکی ہورہی ہے اور اگر کوئی کسی ملک کا شہری نہیں ہے تو ان کے ساتھ یہی سلوک کرنا چاہئے جس کے بعض نمونے یہاں دکھائی دے سکتے ہیں:
بعض رپورٹوں سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مغربی طاقتوں کے ایک دوسرے عزیز دالائی لاما نے بھی برما کے مسلمانوں کے قتل عام میں اپنا حصہ ڈال دیا ہے اور کہا جارہا ہے کہ بدھ دہشت گرد مسلمانوں کے قتل عام کے لئے دالائی لاما کے فتووں پر عمل کررہے ہیں۔دیکھئے:












برمی مسلمانوں کے قتل عام کے اصل مجرم تو امریکہ، یورپ اور مسلمان کہلوانے والے حکمران ہیں لیکن چھوٹے مجرموں میں یہ دو بھی شمار ہوتے ہیں بشرطیکہ مغرب نواز بدھ مفتی دالائی لاما کے فتووں والی بات درست نہ ہو۔ اور یہ دونوں دو ٹوک الفاظ میں اس انسانیت کش اقدام کی مذمت کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
/110