24 جولائی 2012 - 19:30

کابل ميں سہ فريقي سربراہي اجلاس اور وزير اعظم پاکستان کے دورہ کابل کے بعد کے پاکستان اور افغانستان ميں سرحدي کشيدگي ميں اضافہ ہوگيا ہے افغانستان نے پاکستان پر الزام لگايا ہے کہ اس کي فوج نے افغانستان کے اندر گولہ باري اور فائرنگ کي ہے جب کہ اسلام آباد نے اس کي ترديد کي ہے۔

ابنا: پاکستاني فوج نے ايک بيان جاري کرکے افغان حکام کے اس دعوے کو سختي کے ساتھ مسترد کرديا ہے کہ پاکستان کي جانب سے فائر کئے جانے والے آرپي جي اور راکٹوں کے نتيجے ميں اس کے چار شہرے ہلاک ہوگئے ہيں۔ اس بيان ميں يہ بات زور ديکر کہي گئي ہے کہ سرحدي علاقے ميں  چارسو آرپي جي  اور راکٹ حملوں کے بارے ميں افغان حکام کے دعوے ميں کوئي صداقت نہيں ہے۔البتہ پاکستاني فوج نے اشارتا اس بات کو قبول کيا ہے کہ افغانستان کے علاقے سے شدت پسندوں کے راکٹ حملوں کے جواب اور دراندازي کي روک تھام کے لئے سرحدي علاقوں ميں کاروائياں ضرور کي جاتي ہيں ۔پاکستاني فوج کے ايک افسر کے مطابق پاکستان کے فوج صرف ان ہي  علاقوں کو اپنے حملوں کا نشانہ بناتي ہے جہاں سے شدت پسند يا شرپسند عناصر پاکستان کے علاقوں کو نشانہ بناتے ہيں۔ليکن افغانستان کے حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کے علاقے سے فائر کئے جانے والے راکٹوں کے نتيجے ميں صوبہ نورستان ميں کئي مکانات تباہ ہوگئے ہيں اور متعدد خاندانوں کو علاقہ خالي کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔پاکستان اور افغانستان کے درميان سرحدي کشيدگي گزشتہ  برس دونوں جانب سے ہونے والے راکٹ حملوں کے بعد شدت اختيار کر گئي تھي- ان حملوں کے نتيجے ميں شمال مغربي پاکستان کے علاقے  دير اور چترال ميں ايک سو سے زائد افراد مارے گئے تھے جن ميں پاکستاني فوجي بھي شامل تھے۔ليکن پاکستان کے وزيراعظم کے حاليہ دورہ افغانستان کے بعد ہونے والے راکٹ حملے قابل توجہ ہيں۔افغانستان اور پاکستان کي سرحدوں کے دونوں جانب امن و امان کے قيام کي اہيمت کے پيش نظر پاکستان کے وزيراعظم نے کہا تھا کہ انہوں نے سرحدي علاقوں ميں شدت پسندوں کے حملوں کا معاملہ افغانستان کے صدر کے سامنے اٹھايا ہے۔اس پس منظر ميں ديکھا جائے تو پاکستان کے وزير اعظم کے دورہ کابل کے فورا بعد پاکستان کے علاقے سے افغانستان کے سرحدي علاقے پر کيا جانے والا راکٹ حملہ اس بات کي نشاندھي کرتا ہے کہ بعض انتہاپسند گروہ ايسے ہيں جو دونوں ملکوں کے درميان اختلافات کے خاتمے اور سرحدي علاقوں ميں امن و امان کے خواہاں نہيں ہيں۔پاکستان کے سرحدي علاقوں سے افغانستان  ميں کئے جانے والے راکٹ حملے اور پاکستاني سفير کا کابل ميں افغان وزارت خارجہ ميں طلب کيا جانا  پاکستاني وزيراعظم کے دورہ کابل کے نتائج کو سپوتاژ کرنے کي کوشش معلوم ہوتا ہے۔تاہم پاکستان کي حکومت اور فوج شروع ہي سے  ان رپورٹوں کو سختي کے ساتھ مسترد کرتي چلي آئي ہے  کہ افغانستان کے رہائشي علاقوں کو پاکستان کي جانب سے نشانہ بناياجارہا ہے۔ايک اعلي پاکستاني عہديدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کي شرط پر بتايا ہے کہ پاکستاني فوجي صرف افغانستان کے علاقے سے کي جانے والي گولہ باري اور فائرنگ کا  ہي جواب ديتے ہيں۔

.......

/169