9 جولائی 2012 - 19:30

شام کی حمایت کے بارے میں روسی موقف کے خلاف امریکہ اور اس کے مغربی اور عربی اتحادیوں کی شدید تنقیدوں کے باوجود ماسکو نے شام کی حمایت کرتے ہوئےشام کے بحران کو مفاہمت آمیز طریقہ سے حل کرنے پر زور دیتے ہوئے شام کے ساتھ کئے گئے اپنے سمجھوتوں پر کاربند رہنے کی تاکید کی ہے ۔

ابنا: شام کی حمایت کے بارے میں روسی موقف کے خلاف امریکہ اور اس کے مغربی اور عربی اتحادیوں کی شدید تنقیدوں کے باوجود ماسکو نے شام کی حمایت  کرتے ہوئےشام کے بحران کو مفاہمت آمیز طریقہ سے حل کرنے پر زور دیتے ہوئے شام کے ساتھ کئے گئے اپنے سمجھوتوں پر کاربند رہنے کی تاکید کی ہے ۔  اس سلسلے میں فوجی اور فنی تعاون ایجنسی کے نائب سربراہ ویاچسلاوڈزیر کالن نے یہ اعلان کرتے ہوئے کہ ماسکو اور شام  کے درمیان جدید ہتھیاروں کی فروخت کے بارے میں جو معاہدہ طے پایا ہے اس کا پابند ہے البتہ یہ کہا کہ ماسکو شام میں حالات بہتر ہونے تک جدید ہتھیاروں کی فروخت کے بارے میں کسی نئے معاہدے پر دستخط نہیں کرے گا ۔اس روسی عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ ماسکو اب تک شام کی فوج کو درپیش جنگی وسائل کے پارٹس فراہم کر نےکے ساتھ ساتھ اس کے فوجی وسائل کی تعمیرات بھی انجام دیتا رہا ہے ۔ 

البتہ ڈزر کالن نے تاکید کی ہے کہ روس ہیلی کاپٹریا جدید جنگی طیارے شام کو فوخت نہ کرے گا ۔ روس پچاس سے زائد ممالک کو ہتھیار فروخت کرتا ہے اور دنیا میں امریکہ کے بعد ہتھیار فروخت کرنے والا سب سے بڑا ملک شمار ہوتا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ اس روسی عہدیدار کے اس بیان سے شام کو مغربی اور عربی اتحادیوں کے دباؤ کے مقابلے میں یہ اطمینان دلانا ہے کہ ماسکو بشار اسد کی حکومت کے ساتھ ہے اور اسے سرنگوں نہیں ہونے دے گا ۔روس نے ہمیشہ شام کے ساتھ اپنے وعدوں پر پابند رہنے کااعلان کیا ہے اور شام میں جاری بحران کے پیش نظر اقوام متحدہ سے اس بارے میں بنیادی کردار ادا کرنے کا خواہا ں ہے ۔یہ ایسے وقت  ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتین نے بھی حالیہ دنوں میں اعلان کیا ہے کہ ماسکو کوفی عنان اور عرب لیگ کی طرف سے پیش کئے گئے امن منصوبے کا پابند ہے ۔ درحقیقت روس کو اس بات کی تشویش ہے کہ  کہیں ایسا نہ ہو کہ نیٹو کے رکن ممالک لیبیا کی طرح شام  پرفوجی حملے کے بارے میں اتفاق نہ کرلیں ۔

شواہد سے بتہ چلتا ہے کہ  مغربی ممالک لیبیا کی طرح شام کو نوفلائی زون علاقہ قرار دے کر اس پر حملہ نہ کردیں  ۔شام کے مسائل کو حل کرنے کے سلسلے میں بہت زیادہ موانع اور رکاوٹیں موجود ہیں ۔یہ ایسے وقت ہے کہ شام کے خلاف مغرب اور اس کے اتحادی عرب  شدید دباؤ  اور اس پر فوجی حملےکی کوششوں کے پیش نظر  روس ایک بار پھر اس طرح کی مخاصمانہ کوششوں کی مخالفت پر تاکید کی ہے ۔روس اچھی طرح جانتا ہے کہ دمشق حکومت کے خاتمہ کے بعد روس شام سےپہلے کی طرح تعلقات قائم نہيں کرسکتا ہے  اس کے علاوہ ہتھیاروں کی فروخت کے بار ےمیں بھی اسے کافی نقصان پہونچے گا ۔

اسی لئے روس چین کے ساتھ ملکر شام کے بحران کو مفاہمت آمیز طریقہ سے حل کرنے پر زور دے رہا ہے ۔ روسی حکام نے بارہا تاکید کی ہےاور شام میں قومی اتحاد اور بحران کے حل کے لئے مخالفین کو غیر مسلح کئے جانےاو ران کی اسلحہ جاتی مدد کو روکنے اور حکومت دمشق کی جانب سے اصلاحات انجام دینے پر زور دیا ہے ۔ شام کے مخالفین خاص طور امریکہ اور اس کے یورپی اور عربی اتحادیوں کے مقابلے میں روس نے جو موقف اختیار کیا ہے اس سے ایسا لگتاہے کا روس ہمہ گیر طریقہ  سےحکومت شام کی  حمایت کو جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے ۔.......

/169