ابنا: اخبارات کو دئیے گئے بیان میں انہوں پاکستان سیکولر فورم کے چیرمین دلشاد بھٹو کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مخصوص جرنیلوں کی حمایت یافتہ عدلیہ نے شیعہ دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے ملک اسحاق جیسے قاتل کو رہا کردیا جو ہزاروں شیعہ مسلمانوں کا قاتل تھا۔
انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان میں خود کش دھماکے ہو رہے ہیں اور معصوموں کو چن چن کر مارا جا رہا ہے۔ طالبان اور دیگر دہشت گرد گروہ اپنی کاروائیوں کا دائرہ کار بڑھا رہے ہیں اور اب ان میں بسیں، بازار، ہسپتال اور دیگر عوامی جگہیں شامل ہیں۔ یہ ایک واضح امر ہے کہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اس دہشت گردی کے خلاف صف اول کا کردار ادا کرتے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ شیعان حیدر کرار پاکستان میں عددی کم ہے، مگر پاکستان میں شیعہ آبادی تقریبآ پانچ کروڑ ہے جو کہ ایک اندازے کے مطابق چھ کروڑ بھی ہو سکتی ہے۔ چیئرمین دلشاد بھٹو کا کہنا تھا کہ کراچی، کوئٹہ ، کوہستان اور ملک کے دیگر علاقوں میں ہونے والے حملے فرقہ واریت کے تعصب کا شاہکار نظر آتے ہیں۔
دلشاد بھٹو کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مخصوص جرنیلوں کی حمایت یافتہ عدلیہ نے شیعہ دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے ملک اسحاق جیسے قاتل کو رہا کردیا جو ہزاروں شیعہ مسلمانوں کا قاتل ہے۔
مخصوص عدلیہ جس کو مخصوص جرنیلوں کی حمایت حاصل ہے، انہوں نے کہا کہ ہمیں فرقہ پرستی اور مذاہب سے اُٹھ کر انسانیت کی حفاظت کے لیے وقت یزید کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئی ایس آئی کے سربراہی میں تمام کالعدم جماعتوں نے مل کر دفاع پاکستاں کونسل کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے۔
نوجوانانِ ملت تشیعُ نے اس بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔ نوجوانوں کا کہنا تھا کہ یہ اچھی بات ہے کہ ملک پاکستان میں بسنے والی دیگر مذہب بھی دہشتگردوں کے عزائم سے آگاہ ہورہے ہے۔
ہمیں فرقہ پرستی اور مذاہب سے اُٹھ کر انسانیت کی حفاظت کے لیے وقت یزید کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ امام حسین (ع) کے درس انسانیت میں ہی تمام مذہب کی فلاح ہے۔
.......
/169