ابنا: امريکا کے جان ٹيموتھي اور برطانيہ کے جان ييٹس دو فوجي افسران کي حال ہي ميں بحريني وزارت داخلہ ميں تقرري کي گئ ہے جنہوں نے انفارميشن ٹيکنالوجي کي اساس پر سيکورٹي پلان تيار کيا اور اس پلان پر عمل درآمد شروع ہوگيا ہے -امريکا اور برطانيہ کے ان دونوں فوجي افسروں کے تيار کردہ سيکورٹي پلان کے مطابق بحريني سيکورٹي اہلکاروں نے مطلوبہ افراد کے گھروں ميں خفيہ مائيکروفون سسٹم نصب کئے ہيں-اس طرح بحرين کي آل خليفہ حکومت مشکوک افراد کے خاندان والوں کي گفتگو سنتي ہے اور ان افراد کے روپوش ہونے کي جگہوں کا پتہ لگاتي ہے –
بحريني حکومت کي سيکورٹي فورس اس غير اخلاقي اور غير قانوني طريقے پر ايسے عالم ميں عمل کررہي ہے کہ امريکا اور برطانيہ دوسرے طريقوں سے بھي آل خليفہ حکومت کي بھر پور حمايت کررہے ہيں -حال ہي ميں بحرين کے وزير داخلہ راشد بن عبداللہ آل خليفہ نے لندن ميں برطانيہ کے انٹيليجنس کے وزير اور ديگر اعلي رتبہ حکام سے ملاقات کي ہے –
اس ملاقات کے بعد بحرين ميں عوام کي سرکوبي کا نيا مرحلہ شروع ہوا جس ميں بے تحاشا تشدد سے کام ليا جارہا ہے -
بحرين ميں عوام کي سرکوبي ميں ايسي حالت ميں وسعت آئي ہے کہ رپورٹوں ميں بتايا گيا ہے کہ بڑي تعداد ميں برطانوي اور امريکي فوجي بحرين پہنچ گئے ہيں - ان فوجيوں کو بحريني افواج کو، عوامي مظاہروں کو کچلنے کي ٹريننگ کے لئے بھيجا گيا ہے ليکن رپورٹيں بتاتي ہيں کہ يہ فوجي عوام کي سرکوبي ميں براہ راست مشارکت کررہے ہيں اور اس کے لئے انہوں نے ايک کنٹرول روم بھي قائم کررکھا ہے -جب سے بحرين ميں عوام کي تحريک شروع ہوئي ہے اسي وقت سے امريکا اور برطانيہ نے بعض عرب حکومتوں کے ساتھ مل کے ، آل خليفہ حکومت کي ہر طرح سے حمايت اور عوام کي سرکوبي ميں اس کي مدد کي ہے –
بحريني حکومت کي ضرورت کے تمام وسائل امريکا اور برطانيہ فراہم کرتے ہيں -امريکا نے بحرين ميں اپنے پانچويں بحري بيڑے کي موجودگي کے بہانے ، گزشتہ ايک سال ميں آل خليفہ حکومت کي کسي بھي مدد سے دريغ نہيں کيا ہے - اس ميں شک نہيں کہ اگر مغرب کي حمايت نہ ہوتي تو بحريني حکومت عوامي مخالفتوں کے سيلاب کے سامنے ٹک نہيں سکتي تھي - بحرين کے تعلق سے ايک اہم نکتہ يہ بھي ہے کہ بحرين ميں عوام کي وحشيانہ سرکوبي اور انساني حقوق کي وسيع پامالي پر عالمي برادري نے بھي خاموشي اختيار کر رکھي ہے اور يقينا يہ خاموشي عالمي اداروں ميں امريکي نفوذ کا نتيجہ ہے -بحرين کي آل خليفہ حکومت اور اس کے عرب اور مغربي حامي يہ سمجھ رہے ہيں کہ عوام کي سرکوبي اور تشدد ميں شدت لاکے، بحريني عوام کو اس راستے سے ہٹاسکتے ہيں جو انہوں نے اختيار کيا ہے ليکن يہ ان کي غلط فہمي ہے چنانچہ بحرين ميں عوام کي سرکوبي ميں شدت کے ساتھ ہي عوامي مظاہروں ميں وسعت آئي ہے اور بحريني عوام نے اعلان کيا ہے کہ وہ ملکي اور غير ملکي افواج کے تشدد سے قطعا ہراساں نہيں ہيں اور آل خليفہ حکومت کے خاتمے تک انقلابي تحريک جاري رکھيں گے-
.......
/169