ابنا: شام کے غير مسلح مخالفين کے ايک رہنما ہيثم مناع نے کہا ہے کہ بعض بيروني طاقتيں شام پر اپنا تسلط جمانا چاہتي ہيں۔انہوں نے کہا کہ شام کے غير مسلح مخالفين پيرس ميں فرينڈز آف سيريا کے نام سے ہونے والےاجلاس ميں شرکت نہيں کريں گے۔
اسي کے ساتھ چيني وزارت خارجہ کے ترجمان ليو وي مين نے شام ميں ہر قسم کي بيروني مداخلت کي مخالفت پر زور ديتے ہوئے کہا کہ شام اس وقت انتہائي حساس مرحلے سے گزرہا ہے اور اس ملک کے مسائل بيروني طاقتوں کي ہر قسم کي مداخلت کے بغير شام کي حکومت اور مخالفين کے درميان سياسي مذاکرات کے ذريعے ہي حل ہوسکتے ہیں۔
روس کے وزير خارجہ سرگئي لاؤروف نے بھي پيرس اجلاس کو غير ضروري قرار ديتے ہوئے کہا ہے کہ جنيوا اجلاس کے بعد اب شام کے بارے ميں کسي اور اجلاس کي ضرورت نہيں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام فريقوں کو جنيوا اجلاس ميں منظور کي جانے والي تجاويز کے مطابق ہي عمل کرنا چاہئے۔
روس کے وزير خارجہ نے کہا کہ پيرس اجلاس کا مقصد گفتگو کے لئے حالات کو سازگار بنانا نہيں بلکہ تصادم کے حالات پيدا کرنا ہيں اس لئے روس اس اجلاس ميں شرکت نہيں کرے گا۔ سرگئي لاؤروف نے کہا کہ شام کے بارے ميں مغرب کا موقف جنگ پر منتج ہوسکتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور ديتے ہوئے کہ مغرب نے ابتک شام ميں تشدد کو ہوا دينے کے علاوہ اور کچھ نہيں کيا ہے ، کہا کہ شام ميں مغرب کا بھڑکايا ہوا تشدد جاري رہا تو ممکن ہے کہ اس ملک ميں ہمہ گير جنگ پر تمام ہو۔
اس رپورٹ کے مطابق سرگئي لاؤروف نے مغرب کے اس پروپيگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے کہ روس شام کے صدر بشار اسد کو پناہ دينے کے لئے تيار ہے، کہا کہ يہ بات شام کے بحران کے بارے ميں روس کي پاليسي کے خلاف ہے ۔
انہوں نے کہا ان کا ملک اقوام متحدہ کي سلامتي کونسل ميں ايسي ہر قرار داد کي مخالفت کرے گا جو شام ميں فوجي مداخلت کے اسباب فراہم کرےگا۔
روس کے وزير خارجہ سرگئي لاؤروف نےايک بيان ميں يہ بھي کہا ہےکہ بعض مغربي حکومتيں شام ميں سياسي عمل کے بارےميں جنيوا اجلاس ميں جو کچھ طے ہوا ہے اس ميں تحريف کررہي ہيں - انہوں نے کہا کہ يہ حکومتيں جنيوا اجلاس کے فيصلوں ميں تحريف کرکے شام ميں حکومت گرانے کے لئے اس سے فائدہ اٹھانا چاہتي ہيں۔.......
/169