4 جولائی 2012 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران کےصدرڈاکٹراحمدی نژاد نےکہاہےکہ قوموں کےاصلی دشمن مشرق وسطی کےعلاقےپراپنےتسلط کوزندہ کرنےاور صہيونی رياست کوتباہی کےخطرےسےبچانےکی بھرپورکوشش کررہےہیں۔

ابنا: صدراحمدی نژاد نےتھران میں شام کی پارلیمنٹ کےاسپیکرمحمدجہاد اللحام سےملاقات میں اس بات پرتاکیدکرتےہوئےکہ صہيونی رياست برباد ہورہی ہے اورعلاقےکی قوموں کےدشمن اس حکومت کوبچانےکےلئےپوری کوشش کررہےہیں کہاکہ افسوس کہ علاقےکی بعض حکومتیں اس حقیقت سےغافل ہوکراقتدارمیں باقی رہنےکےلئےمدد کےوعدےسےدھوکہ کھاکر صیہونی حکومت سےرابطہ کئےہوئےہیں۔صدراحمدی نژاد نےمشرق وسطی بالخصوص شام کےحالات کی جانب اشارہ کرتےہوئے تاکیدکی کہ امریکہ صرف اپنےمفادات کی فکرميں ہے اوروہ قوموں کےحقوق کااحترام نہيں کرتاجبکہ یہ شام سمیت علاقےکی قوموں کاحق ہےکہ پوری آزادی سےاپنی تقدیرکافیصلہ کریں اوردوسروں کوان پراپنےمطالبات مسلط نہيں کرنےچاہئے۔مغربی ممالک بالخصوص امریکہ جوعلاقےکی تبدیلیوں کےنتیجےمیں صیہونی حکومت کی سلامتی کوخطرےمیں دیکھ رہا ہے اسےتباہی سےبچانےکےلئے پوری کوشش کررہا ہے۔ علاقےمیں آنےوالےانقلابات پرقبضہ کرنا، اورانھیں اپنےمطالبات کی جانب موڑنا نیزڈیموکریٹیک حکومت قائم کرنےکادھوکہ دےکرشام کےعوام کےمطالبات کی حمایت کےبہانےاس ملک کونشانہ بنانا علاقےکی قوموں کےدشمنوں کی جملہ کوششیں ہیں جو صہيونی رياست کوتباہی ونابودی سےبچانےکےلئےانجام پارہی ہیں۔علاقےمیں اسلام پسندی کی لہرپھیلنے کےبعد بالخصوص مصرمیں اس کی کامیابی اورآخرکاراسلام پسندصدرکےبرسراقتدارآنےکےبعد اس وقت صہيونی رياست ہمیشہ سےزیادہ خطرےمیں ہے۔مصرجس کےحسنی مبارک کےدور میں اسرائیل سےبہت گہرےتعلقات تھے اوراس کاسب سےبڑاثبوت کیمپ ڈیویڈ معاہدہ کالعدم قراردینا ہے ، آج مصری عوام کےانقلاب کےنتیجےمیں صیہونی حکومت اس کی سب سےبڑی دشمن شمارہوتی ہے۔مصرکےانقلابی عوام کاایک سب سےبڑامطالبہ صیہونی حکومت سےتعلقات ختم کرنااورکیمپ ڈیویڈمعاہدہ ختم کرناہے۔خودصیہونی حکام اعتراف کرتےہیں کہ آج اسرائیل شدیددباؤ میں ہے اورمصرميں اسلام پسندامیدوارمحمدمرسی کی صدارتی انتخابات میں کامیابی نےاسرائیل کوپہلےسےزیادہ تشویش میں مبتلاکردیاہے۔ایسےعالم میں جب اسلامی بیداری کی لہرکےنتیجےمیں علاقےکی قومیں،عرب ممالک اوراسرائیل کےدرمیان تعلقات کےخاتمےکامطالبہ کررہی ہیں سعودی عرب اورقطرصیہونی حکومت کےساتھ رابطہ قائم کئےہوئےہيں اورشام کےحالات کےسلسلےمیں اس کابخوبی مشاہدہ کیاجاسکتاہے۔معتبررپورٹوں کےمطابق صیہونی حکومت شام میں دہشتگردوں کومسلح کرنےمیں سعودی عرب قطراورترکی کےساتھ تعاون کررہی ہے ، سعودی عرب اورقطر شام میں دہشتگردوں کی مالی مدد کررہےہيں جبکہ اسرائیل اور مغربی ممالک دہشتگردوں کی لیجسٹیک مدد کررہے ہيں اورترکی دہشتگردوں کوشام میں داخل ہونےاور انھیں ہتھیارپہنچانےکاراستہ ہے ۔ابھی حال ہی میں صیہونی حکومت کےتین مال بردارجہازجوجدیدترین ہتھیاروں اورمواصلاتی وسائل سےبھرےہوئےتھے شام کی سرحدوں سےصرف ساٹھ کلومیٹرکےفاصلےپر ترکی کےایک فوجی اڈےپراترےہيں تاکہ یہ ہتھیاراورمواصلاتی وسائل شام میں دہشتگردوں کےلئےروانہ کئےجائيں ۔شام میں عوام کوآزادی دلانےکےبہانے دہشتگردوں کوعرب فریقوں کی مالی اورلیجسٹیک مدد کاسلسلہ ایسےعالم میں انجام پارہاہے کہ شام میں دہشتگردوں کے حامی سعودی عرب جیسےملکوں میں مکمل آمریت ہے۔ .......

/169