2 جولائی 2012 - 19:30

سعودي عرب ملک عبداللہ کے بيٹوں اور ولي عہد کے درميان تقسيم ہوگيا ہے-

ابنا: آگاہ ذرائع  نے خبردي ہے کہ سعودي عرب عملي طور پر ملک عبداللہ کے بيٹوں اور ولي عہد کے درميان تقسيم ہوگيا ہے اور ان ميں سے ہر کوئي ملک کے ايک بڑے حصے پر حکومت کر رہا ہے-

کہا جارہا ہے کہ متعب بن عبداللہ بن عبدالعزيز نے جدہ سميت سرزمين حجاز کے اہم شہروں پر جن ميں مدينہ، مکہ، طائف، اور ابہا شامل ہيں، اور ملک کي  آدھي آبادي ان شہروں ميں آباد ہے اور مذہبي لحاظ سے بھي يہ شہر اہم تصور کئے جاتے ہيں، اپنا کنٹرول قائم کرليا ہے اور اپنے باپ کے مرنے کے بعد کي صورتحال کا مقابلہ کرنے کي  تياري کر رہے ہيں

دوسري جانب حال ہی ميں مرنے والے ولي عہد نائف بن عبدالعزيز کے بيٹے محمد بن نائف نے ملک کے دارالحکومت رياض پر کنٹرول کے علاوہ ملک کے مشرقي ساحلوں خاص طور سے تيل کے ذخائر سے مالا مال علاقوں پر اپني نظريں جما  رکھي ہيں اور اقتدار کي رسہ کشي ميں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کي کوشش کررہے ہيں - اس دوران موجودہ ولي عہد سلمان بن عبدالعزيز کا کردار بھي اہم ہے جن کے پاس وزارت دفاع کا عہدہ بھي ہے ليکن وہ اپني بيماري کي وجہ سے مسلسل امريکہ جاتے رہتے ہيں اور ان کے پاس اپني بيماري کے علاج کے علاوہ کسي اور کام کي فرصت نہيں ہے-

کہا جارہا ہے کہ  آل سعود خاندان کے شہزادوں  ميں اقتدار کي جنگ پوري سنجيدگي سے جاري ہے، حتي اس ملک کے ملاؤں تک پہنچ گئي ہے اور اطلاعات ہيں کہ امربالمعروف اورنہي عن المنکر کا ادارہ جس ميں وہابيوں کو اثرو رسوخ حاصل ہے محمد بن نائف کي حمايت کررہا ہے جبکہ سلفي علما کا گروپ متعب بن عبداللہ کا حامي ہے-

ملک عبداللہ کے منظر عام سے غائب ہوجانے کے باعث  سعودي عرب ميں بغاوت کي افواہيں بھي گردش کر رہي ہيں اور بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ صورتحال انتہائي بحراني ہے اور ہلکي سي چنگاري پورے سعودي عرب کو اپني لپيٹ ميں لے سکتي ہے-

.......

/169