2 جولائی 2012 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان مہمان پرست نے کہا ہے کہ خلیج فارس میں بھر پور طرح سے امن و امان قائم رکھنا سپاہ پاسداران کی میزائيلی فوجی مشقوں کا مقصد ہے۔ سپاہ پاسدران کی فوجی مشقیں پیغمبر اعظم سات کے زیرعنوان جاری ہیں جن میں مختلف طرح کے میزائيلوں کا تجربہ کیا جارہا ہے۔

ابنا: رامین مہمان پرست نے آج ہفتہ وار پریس بریفننگ میں پیغمبر اعظم سات فوجی مشقوں کے بارے میں کہا کہ ان فوجی مشقوں کا پیغام یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران بھر پور طرح سے خلیج فارس کے علاقے میں امن قائم رکھنے اور آئيل ٹینکروں کی آمد و رفت نیز انرجی کے ذخائر کی سپلائی جاری رکھنے کے مکمل آمادگي رکھتا ہے۔

ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی طاقت ہی سے علاقے میں امن و امان قائم ہے جبکہ امریکہ اور یورپی ملکوں کے اقدامات سے علاقے کی سکیورٹی کو خطرے لاحق ہیں۔ مہمان پرست نے اس سوال کے جواب میں کہ شام میں قومی اتحاد کی حکومت کے بار ے میں ایران کا کیا موقف ہے اور کیا جینوا اجلاس میں ایران کی عدم شرکت سے اسکی پوزیشن کمزور ہوئي ہے کہا کہ جینوا اجلاس روس کی تجویز سے شام میں اقوام متحدہ کے نمائندے کوفی عنان کے منصوبے کو استحکام پہنچانے کے لئے بلایا گيا تھا۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ اور بعض یورپی ملکوں کے بے جا اصرار نے اس اجلاس کو ناکام بنادیا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ تہران نے بارہا اعلان کیا ہےکہ علاقائي ممالک بالخصوص شام کے امور میں بیرونی مداخلت کا مخالف ہے اور شام کی حکومت اور مخالفین کے درمیان گفتگو کی مفاہمت آمیز فضا بناکر جنگ بندی عمل میں لائي جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی پرامن فضا قائم کرنے سے ہی شام میں اصلاحات پر عمل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک شام کی حکومت اور بااثر ملکوں کی باتوں کو نظر کیا جاتا رہے گا شام میں بیرونی ملکوں کی مداخلت کا کوئي نتیجہ نہیں نکلے گا۔ .......

/169