ابنا: ہفتے کے روز پاکستان کے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف اور پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربّانی کھر کے درمیان نیٹو سپلائی کی ممکنہ بحالی کے بارے میں گفتگو کے بعد پیر کے روز امریکہ کے نائب وزیر خارجہ تھوماس نائڈز نے ایک پاکستانی عہدیدار سے ملاقات کی جبکہ پیر کے ہی دن افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج کے کمانڈر جنرل جان ایلن نے ایک ہفتے کے اندر دوسری بار پاکستان کا دورہ کیا اور پاکستان کی فوج کے سربراہ سمیت اس ملک کے کئی اعلی عہدیداروں سے ملاقات اور نیٹو سپلائ کی بحالی کے بارے میں گفتگو کی ۔ پاکستان کی حکومت نے گذشتہ سال نومبر سے، جب سے نیٹو نے پاکستان کی فوجی چیک پوسٹ پر حملہ کیا ہے کہ جس میں 24 پاکستانی فوجی ہلاک ہوگئے تھے پاکستان کے راستے نیٹو سپلائی بند کررکھی ہے جس کی بناء پر افغانستان میں نیٹو کو ضروریات کے اپنے سامان کی فراہمی میں کافی مسائل کا سامنا ہے ۔ حکومت پاکستان نے نیٹو سپلائی کی بحالی کیلئے نیٹو حملے پر معافی مانگنے اور قبائلی علاقوں پر ڈرون حملے بند کئے جانے جیسی شرطیں عائد کی ہیں جبکہ اس نے سامان سپلائ کرنے والے ٹرکوں کا ٹیکس بھی بڑھائے جانے کی ضرورت پر زور دے کر کہا ہے کہ فی ٹرک ٹیکس 250 سے 5000 ڈالر تک کیا جانا چاہئے ۔ نیٹو سپلائی بند رکھنے کے پاکستان کے فیصلے کے بعد سے امریکہ، نیٹو سپلائی کسی اور راستے سے انجام دئے جانے پر مجبور ہوگیا۔ تاہم امریکہ کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ کسی اور راستے سے نیٹو سپلائی کا عمل، جنگی اخراجات مزید بڑھہ جانے کا باعث بنے گا۔ جیساکہ ماہرین نے بھی کہا ہے کہ پاکستان کے علاوہ کسی اور راستے سے نیٹو سپلائی کا عمل بھاری اخراجات کے ساتھہ ساتھہ راستہ بھی مزید طولانی ہونے کا موجب ہوگا ۔.......
/169