1 جولائی 2012 - 19:30

پابنديوں سے ايران کي تيل کي برآمدات پر کوئي اثر نہيں پڑے گا ليکن ان پابنديوں کے نفاذ سے امريکا اور يورپ نے توانائي کي سلامتي کو خطرے ميں ڈال ديا ہے -

ابنا: ايران کے خلاف امريکا اور يورپي يونين کي جانب سے تيل کي پابندي کے نفاذ پر ردعمل ميں ايراني وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امريکا اور يورپ نے پابنديوں کے ذريعے دباؤ بڑھاکے  بين الاقوامي سطح پر توانائي کي سلامتي اور عالمي منڈيوں ميں توازن کو خطرے سے دوچار کرديا ہے - رامين مہمان پرست نے کہا کہ امريکا اور يورپ کے  اس اقدام سے دنيا کا اقتصادي بحران شديدتر ہوگا اور اس  کے لئے انہيں  جواب دہ ہونا پڑے گا - وزارت خارجہ کے ترجمان نے امريکا اور يورپ کي خودسرانہ پابنديوں کو آزاد تجارت کے اصول اور بين الاقوامي قوانين کے  منافي بتايا اور کہا کہ امريکا اور يورپ کو اپنے اس غير قانوني اقدام کے سياسي و سفارتي نتائج کے علاوہ مالياتي و اقتصادي بحران ميں شدت اور اپنے عوام کے احتجاج  ميں وسعت کا سامنا کرنے کے لئے بھي تيار رہنا چاہئے -

رامين مہمان پرست نے کہا کہ اس اقدام نے ثابت کرديا ہے کہ نہ صرف يہ کہ ايران کے تعلق سے وہ تعميري راستے پر نہيں چل رہے ہيں  بلکہ کشيدگي بڑھانے کي پاليسي پر عمل کررہے ہيں - انہوں نے کہا کہ امريکا اور يورپ نے يہ غير تعميري قدم ايسي حالت ميں اٹھايا ہے کہ ايران اور گروپ پانچ جمع ايک کے مذاکرات کے عمل ميں دو طرفہ اعتماد سازي پر تاکيد کي گئي ہے- وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ايراني عوام دباؤ اور دھمکيوں سے پسپائي اختيار کرنے والے نہيں ہيں بلکہ يہ پابندي  ان کے اتحادو يک جہتي کے مزيد مستحکم ہونے پر منتج ہوگي-

  دوسري جانب  ايران کے وزير پيٹروليم رستم قاسمي نے کہا ہے کہ مغربي ممالک کي جانب سےعائد کردہ پابنديوں سے ايران کي تيل کي برآمدات پر کوئي اثر نہيں پڑے گا-

  رستم قاسمي نے  کہا کہ ايران علاقے کے ايک اہم ترين ملک کي حيثيت سے دنيا کے مختلف ممالک سے لين دين رکھتا ہے اور ايراني تيل کے خاص خريدار موجود ہيں-

           ياد رہے کہ يورپي يونين نے امريکا کي پيروي کرتے ہوئے ايران سے تيل کي درآمدات پر يکطرفہ پابندياں عائد کي تھيں جن پر اتوار سے عملدرآمد شروع ہو گيا ہےـ يورپي ممالک نے ايران سے تيل کي خريداري بند کرنے کے ساتھ ہي ايشيائي ممالک پر بھي دباؤ ڈالا ہے کہ وہ ايران سے تيل نہ خريديں تاہم چين، ہندوستان اور جاپان جيسے ممالک ان پابنديوں پر کوئي توجہ ديئے بغير ايران سے بدستور تيل درآمد کر رہے ہيں -

     اگرچہ پابنديوں کے اثرات اور امريکيوں کے ذريعے کئے جارہے دعوؤں کے مقاصد کے بارے ميں بے شمار شکوک وشبہات پائے جاتے ہيں ليکن کم ازکم يہ بات طے ہے کہ امريکا اور يورپي يونين ميں سے کوئي بھي اس وقت اس پوزيشن ميں نہيں ہے کہ وہ پابنديوں کي کشتي کو اپنے مد نظر مقاصد تک پہنچاسکيں - درحقيقت امريکا اور يورپي يونين نے خود کو ايک انجام شدہ عمل کے سامنے لاکھڑا کيا ہے جس کا ان کے پاس بھي بظاہر کوئي علاج نہيں ہے کيونکہ يہ کام خود انہوں نے ہي شروع کيا تھا اور اس کے نتائج بھي خود ہي بھگتيں گے - اس درميان يورپي يونين کو  کہ جسےاپني تباہ حال معيشت کي فکر کرني چاہئے تھي سب سے زيادہ نقصان پہنچے گا-

   اس وقت يورپ اور ايشيا کے تقريبا بارہ ممالک کو امريکا کي يکطرفہ پابنديوں سے مستثني قراردے ديا گيا ہے- امريکي وزير خارجہ ہيلري کلنٹن نے بھي اس بات کا اعتراف کيا ہے کہ ايران سے تيل کي خريداري رک جائے يہ بہت ہي مشکل امر ہے - مسئلہ يہ ہے کہ امريکا اپنے داخلي قوانين کو دوسرے ملکوں پر مسلط کرکے تجارتي ميدان ميں بھي اپنا تسلط قائم کرنے کي کوشش کررہا ہے  جو آزاد تجارت کے قوانين کے سراسر منافي ہے-.......

/169