ابنا: صہيوني رياست کے ذرائع کے مطابق بن يامين نتين ياہو نے مصر کے منتخب صدر محمد مرسي کے نام ايک خط ارسال کرکے ان سے مطالبہ کيا ہے کہ کيمپ ڈيوڈ معاہدے کو باقي رکھيں اور اس کي پابندي کريں - مصر کا صدر منتخب ہونے کے بعد محمد مرسي کے نام صيہوني وزير اعظم کا يہ پہلا خط ہے -صہيوني رياست کے ذمہ داروں کے مطابق بن يامين نتين ياہو اسي کے ساتھ امريکا کي ثالثي ميں مصر کے صدر محمد مرسي سے براہ راست ٹيليفوني رابطہ برقرار کرنے کي کوشش بھي کررہےہيں -
کيمپ ڈيوڈ معاہدے پر انيس سو اناسي ميں امريکا کي ثالثي سے دستخط ہوئے تھے اور مصر کے عوام تيس سال سے اپنے ملک کے حکام سے اس معاہدے کي منسوخي کا مطالبہ کررہے ہيں –
محمد مرسي اور اخوان المسلمين کے ديگر رہنماؤں نے مصرکے عوام سے وعدہ کيا ہے کہ وہ اس معاہدے پر نظر ثاني کريں گے ليکن امريکا نے دھمکي دي ہے کہ اگر مصر نے کيمپ ڈيوڈ معاہدہ منسوخ کيا تو اس کي سالانہ مالي امداد بند کردي جائے گي- کيمپ ڈيوڈ معاہدہ دو لحاظ سے اسرائيل کے لئے اہميت رکھتا ہے-
ايک يہ کہ خطے کے ايک بااثر ملک کي حیثيت سے مصر کے ساتھ تعلقات اسرائيل کا اولين مقصد ہے اور دوسرے يہ کہ قاہرہ کي مدد سے غزہ کے راستوں کو بند کرنا اس کا دوسرا اور سب اہم مقصد ہے-
فلسطين اليوم نامي ويب سائٹ نے محمود الزھار کے حوالے لکھا ہے کہ صدر بننے کے بعد قاہر يونيورسٹي ميں محمد مرسي کي تقرير سے اپنے جائز حقوق کي بازيابي اور مسئلہ فلسطين کے منصفانہ حل کے سلسلے ميں فلسطيني عوام کے حوصلے بلند ہوئے ہيں-
الزھار کا کہنا تھا کہ وہ پوري طرح مطمئن ہيں کہ مسئلہ فلسطين کے حوالے سے مصر کي نئي پاليسياں مثبت ہونگي اور فلسطيني عوام کو اپنے اصولي موقف پر ڈٹے رہنے کا حوصلہ عطا کريں گي -
دوسري جانب مصري عوام شروع ہي سے غزہ کے محاصرے اور خطے کے خلاف اسرائيلي جارحيت کي مخالفت کرتے رہے ہيں - فلسطينیوں کا خيال ہے کہ مصر کا انقلاب اور اس ملک کا، اپنا کھويا ہوا مقام پھر سے پالينا خطے کے بہت سے مسائل حل کرنے ميں مدد گار ثابت ہوگا-
مصر کے صدر محمد مرسي نے قاہرہ يونيورسٹي ميں تقرير کرتے ہوئے مسئلہ فلسطين کي جانب بھي اشارہ کيا تھا اور يہ بات کھل کر کہي تھي کہ وہ فلسطيني عوام کے جائز مطالبات کے حصول ميں انکي حمايت کريں گے- مرسي کا کہنا تھا کہ مصر فلسطيني عوام کے ساتھ رہے گا-
حسني مبارک حکومت کے خاتمے کے بعد مصر کے اعلي ترين عہديدار کي جانب سے ديا جانے والا اس قسم کا بيان نہ صرف يہ کہ اسرائيلي حکام کے لئے خوش آئند نہيں ہے بلکہ انہيں اسرائيل کے ساتھ مصر کي آئندہ حکومت کے تعلقات کي نوعيت کي بابت تشويش لاحق ہوگئي ہے –.......
/169