30 جون 2012 - 19:30

بعض عرب اور یورپی ممالک نے جنیوا اجلاس سے قبل اس کی کامیابی کے بارے میں امید کا اظہار کیا تھا لیکن اس اجلاس کے اختتام پذیر ہونے کے بعد واضح ہوگيا کہ شام کے سلسلے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کےاراکین کے درمیان اختلافات بدستور موجود ہیں۔

ابنا: اگرچہ شام کے امور میں عرب لیگ اور اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کوفی عنان نے جنیوا اجلاس کے بارے میں کہا ہے کہ اجلاس میں شام میں سیاسی اقتدار کی منتقلی کے بارے میں اصولی طور پر اتفاق حاصل ہوگيا ہے لیکن رپورٹوں سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ خود اسی مسئلے کے حوالے سے بھی جنیوا اجلاس کے شرکاء کے درمیان اختلافات پائے جاتے تھے۔ جنیوا اجلاس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین کے وزرائے خارجہ کے علاوہ یورپی یونین ، قطر ، ترکی ، عراق اور کویت کے نمائندے اور عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نے بھی شرکت کی۔ امریکہ ، برطانیہ ، فرانس اور بعض عرب ممالک شام میں اقتدار کی ایسی منتقلی پر تاکید کرتے رہے جس میں بشار اسد کی کوئي جگہ نہ ہو لیکن روس اور چین نے اس کی مخالفت کا اعلان کیا۔ ماسکو اور بیجنگ نے جنیوا اجلاس میں شام میں قومی آشتی کے لۓ شام کے امور میں اقوام متحدہ کے نمائندے کوفی عنان کی تجویز پر عملدرآمد کو ضروری قرار دیا۔ شام کے بارے میں چین اور روس کے موقف ایسی حالت میں بیان ہوئے ہیں کہ جب کوفی عنان جنیوا اجلاس میں شام سے متعلق اقوام متحدہ کی چھ نکاتی امن تجویز پر عملدرآمد کی ضرورت پر کئی مرتبہ زور دے چکے ہیں۔ انھوں نے شام میں متحارب فریقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس ملک میں بدامنی کا خاتمہ کر کے اقوام متحدہ کی چھ نکاتی تجویز پر اپنی پابندی کا مظاہرہ کریں۔

اہم بات یہ ہے کہ کوفی عنان نے جنیوا میں اعلان کیا ہے کہ اقتدار کی منتقلی کے عمل میں شام کی موجودہ حکومت ، مخالفین اور دوسرے گروہوں کو بھی شامل ہونا چاہۓ۔

یہ زاویہ نگاہ شام سے متعلق یورپ اور قطر و سعودی عرب جیسے عرب ممالک کے زاویۂ نگاہ سے مختلف ہے۔ یہ ممالک گزشتہ ایک سال سے اب تک شام کے سیاسی نظام کی دشمنی میں پیش پیش رہے ہیں۔ اور جب سے کوفی عنان کی چھ نکاتی تجویز پیش کی گئي ہے تب سے ان ممالک نے اس تجویز کو ناکام بنانے کی پوری کوشش کی ہے تاکہ بزعم خویش اس ملک میں سیاسی تبدیلی کے اپنے سناریو کو عملی جامہ پہنا سکیں۔ عرب اور یورپ کے متحدہ محاذ نے حالیہ دنوں میں شام کے مخالفین اور دہشتگردوں کو مسلح کر کے انتہائی بہیمانہ مظالم کا ارتکاب کیا ہے تاکہ یہ ظاہر کر سکیں کہ شام کے بحران کا کوئي سیاسی حل نہیں ہے۔

اب تک روس اور چین نے شام میں ہر طرح کی فوجی مداخلت کی مخالفت کی ہے۔ بشار اسد کے سلسلے میں روس اور امریکہ کا اختلاف اب تک شام سے متعلق یورپ کے نظریات پر عملی جامہ پہنائے جانے کے سدراہ رہا ہے۔ جنیوا اجلاس میں یہ اختلافات بدستور قائم رہے اور یہ اجلاس یورپ کے لۓ کسی نتیجےکے بغیر ہی اختتام پذیر ہوگيا ۔ اسے یورپ اور عرب کے شام مخالف متحدہ محاذ کی شکست قرار دیا جاسکتا ہے۔ خاص طور پر اس بات کے پیش نظر کہ کوفی عنان نے جنیوا اجلاس میں کہا ہے کہ شام کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ اس ملک کے عوام کو ہی کرنا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ دوسرے کسی بھی ملک کی جانب سے پیش کیا جانے والا سناریو قابل قبول نہیں ہوگا۔....... /169