28 جون 2012 - 19:30

روس کے صدر ولادیمیر پوتین نے آج فوجی اکیڈمی کے فارغ التحصیل طلباء سے خطاب کرتے ہوئے دیگر ملکوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ روس کے ساتھہ صحیح اور منطقی روّیہ اختیار کریں .

ابنا: انھوں نے کہا کہ ان کا ملک زور و زبردستی ہرگز برداشت نہیں کریگا اور وہ ہر قسم کی دھمکی کا اسی انداز میں جواب دیگا۔ موجودہ صورت حال میں روس کے صدر ولادیمیر پوتین کا یہ بیان اس اعتبار سے خاص اہمیت رکھتا ہے کہ اس وقت میزائل دفاعی شیلڈ کے حوالے سے روس اور امریکہ کے اختلافات جوں کے توں جاری ہیں اور یہ کہا جاسکتا ہے کہ روس اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی دور کرنے کیلئے امریکی صدر بارک اوبامہ کا منصوبہ شکست سے دوچار ہوگیا ہے ۔ اس رو سے روسی حکمرانوں کی نظر میں روس کو مختلف فوجی طریقوں سے مضبوط بنانے کا رجحان بڑھتا جارہاہے ۔ ولادیمیر پوتین نے صدارتی انتخابات کی مہم کے دوران روسی عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ روس کی فوج کو مختلف قسم کے ہتھیاروں سے لیس کرکے اسے زیادہ مضبوط بنائیں گے ۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے آج ایکبار پھر اپنے اس موقف کا اعادہ کیا اور کہا کہ روس کی فوج کو مختلف قسم کے ہتھیاروں سے لیس کرنا ان کے ملک کی قومی سلامتی کیلئے اشّد ضرورت ہے ۔ انھوں نے اس سلسلے میں گذشتہ فروری میں اپنے ایک مقالے میں بھی اس حوالے سے اپنے منصوبے کی طرف اشارہ کیا تھا اور لکھا تھا کہ سنہ 2017 تک روس کے دو تہائی فوجی، رضاکار افراد پر مشتمل ہوں گے ، جس کی رو سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ روسی صدر فوجیوں کی تعداد میں کمی کے بدلے ان کی کیفیت و پوزیشن بہتر بنائے جانے پر خاصطور سے توجہ دینا چاہتے ہیں اور اس کیلئے انھوں نے آئندہ دس برسوں میں 770 ارب ڈالر کا بجٹ بھی مد نظر رکھا ہے ۔ البتہ روسی صدر ‏ ولادیمیر پوتین نے اپنے ملک کی فوج کو جدید بنانے کا عمل سنہ 2000 میں اپنی صدارت کے پہلے دور میں شروع کیا تھا اور روس کی بڑھتی ہوئی اقتصادی توانائی سے اس عمل کو پورا کرنے میں اور زیادہ سہولت فراہم ہوئی ہے -روس کے وزیر اعظم میڈویڈیف نے بھی روسی فضائیہ کے مرکز کازان میں کہا ہے کہ ماسکو، روسی فوج کو مزید مضبوط بنانے کیلئے اسے ایک ہزار ہیلی کاپٹروں اور چھے سو جنگی طیاروں سے لیس کررہا ہے اور سنہ 2014 تک مختلف نوعیت کے دس دفاعی میزائیلی شیلڈ اور اسی طرح ایٹمی بلسٹیک میزائیلوں کے حامل آٹھہ بحری جہاز بھی شامل کئے جائیں گے تاکہ فوجی توانائی میں مزید اضافہ کیا جاسکے۔ تاہم روسی فوج کو ماڈرن بنانے کا اہم مقصد اسے ایسی ٹیکنالوجی سے بنے ہتھیاروں سے بھی لیس کرنا ہوسکتا ہے جو صرف چند ملکوں کے ہی پاس موجود ہے جن میں ڈرون طیارے بھی شامل ہیں کہ جن کی تیاری میں صرف امریکہ ۔ روس ۔ چین ۔ ہندوستان ۔ اسرائیل ۔ اور جنوبی افریقہ سرگرم عمل ہیں ۔ چنانچے امریکہ، فوج کو جدید ہتھیاروں سے لیس کرنے کے روسی منصوبے کو اپنی گہری تشویش کی نظر سے دیکھہ رہا ہے اور اس بات کے پیش نظر کہ روس اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی دور کرنے کیلئے امریکی صدر بارک اوبامہ کا منصوبہ شکست سے دوچار ہوگیا ہے روسی فوج کو مستحکم کئے جانے کا عمل امریکی حکمرانوں کیلئے خوش آئند نہیں ہے۔۔......./169