27 جون 2012 - 19:30

سعودي عرب کي حمايت يافتہ بحريني حکومت کے سيکورٹي اہلکاروں نے جزيرہ سترہ ميں جمہوريت کے حق ميں مظاہرہ کرنے والوں کو فائرنگ کا نشانہ بنايا ہے-

ابنا: بڑي تعداد ميں  بحريني نوجوان  جزيرہ سترہ کي سڑکوں پر آئے اور اہم شاہراہوں پر دھرنا ديکر بيٹھ گئے-شاہي حکومت کے پر تشدد اقدامات پر مشتعل نوجوان آل خليفہ خاندان اور سعودي عرب کے خلاف نعرے لگا رہے تھے-مقامي ذرائع کا کہنا ہے سعودي اور بحريني فوجيوں نے مظاہرہ کرنے والے نوجوانوں کو منتشر کرنے کے لئے غير ضروري طور پر طاقت کا استعمال-کہا جارہا ہے کہ شاہي حکومت کے سيکورٹي اہلکاروں نے پرامن نوجوانوں کے خلاف زہريلي آنسو گيس کے گولے پھينکے اور بعد ازاں براہ راست فائرنگ کردي- نوجوانوں پر شاہي حکومت کے سيکورٹي اہلکاروں کي فائرنگ کے حوالے سے  انٹرنيٹ پر جاري ہونے والي فوٹيج سے اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کرنے والوں کے خلاف حکومت بحرين کي بے رحمي اور شقي القلبي کا پتہ چلتا ہے-بحريني نوجوانوں نے اپنے دفاع ميں شاہي حکومت کے سيکورٹي اہلکاروں پر آگ لگانے والي بوتليں پھينکيں اور کئي مقامات پر پوليس سے ہاتھا پائي بھي ہوئي-دوسري جانب انساني حقوق مرکز بحرين کے سربراہ نبيل رجب کو رہا کئے جانے کي خبر ہے-بحرين کي شاہي حکومت نے دعوي کيا ہے کہ نبيل رجب کو المحرق نامي محلے کے لوگوں کي جانب سے  دائر کي جانے والي شکايت کے بعد گرفتار کيا گيا تھا-دوسري جانب نبيل رجب نے اپنے ايک بيان ميں کہا ہے کہ انہيں وزيراعظم کے خلاف تنقيد کے جرم ميں گرفتار کيا گيا تھا اور اسکا عام لوگوں سے کوئي تعلق نہيں ہے-قبل ازيں انساني حقوق کي عالمي تنظيم ہومين رائٹس واچ نے انکي رہائي کا مطالبہ کيا تھا-......./169