19 جون 2012 - 19:30

ايران اور گروپ پانچ جمع ايک کے درميان ماسکو ميں ہونے والے دوروزہ مذاکرات زيادہ شفاف اور کامياب رہے ہيں -

ابنا: ايران کے چيف ايٹمي مذاکرات کار ڈاکٹر سعيد جليلي نے منگل کي رات ماسکو ميں ايک پريس کانفرنس ميں بتايا کہ ماسکو مذاکرات ميں زيادہ سنجيدگي کے ساتھ گفتگو ہوئي اور ايران نے تفصيل کے ساتھ اپنے نظريات بيان کئے - انہوں نے کہا کہ ماسکو مذاکرات کي سب سے بڑي خصوصيت يہ ہے کہ ہميشہ سے زيادہ سنجيدگي اور صراحت  کے ساتھ گفتگو کي گئي-

ڈاکٹر سعيد جليلي نے اس پريس کانفرنس ميں بتايا کہ ايران نے ماسکو مذاکرات ميں ، اعتماد سازي، شفافيت ميں تعاون ، ايٹمي ہتھياروں کي مخالفت اور ايٹمي تعاون پر مشتمل چار موضاعات پيش کئے- انہوں نے کہا کہ ان چارو امور ميں  تعاون اس وقت ہوسکتا ہے کہ جب دونوں طرف سے ايسے مناسب اور باہمي اقدامات کئے جائيں جو يورينيئم کي افزودگي سميت  ايران کے ايٹمي حقوق کے منافي نہ ہوں اور اقدامات اس وقت مناسب اور مثبت ہوسکتے ہيں جب ايراني قوم کے خلاف معاندانہ اقدامات ترک کرديئے جائيں

انہوں نے يورينيم کي افزودگي کے بارے ميں کہا کہ اين پي ٹي اور ديگر بين الاقوامي دستاويزات منجملہ دو ہزار دس کي اين پي ٹي نظر ثاني دستاويز کے مطابق يورينيم کي افزودگي اور فيول سائيکل اين پي ٹي کے اراکين کا حق ہے -  ايران کے چيف ايٹمي مذاکرات کار کے بقول بغداد اور ماسکو ميں انجام پانے والے  اجلاسوں  کے درميان  ايران نے گروپ پانچ جمع ايک کي مذاکراتي ٹيم   کو پانچ خط ارسال کئے جن ميں اس بات پر تاکيد کي گئي تھي کہ مذاکرات کو کامياب بنانے کے لئے ضروري ہے کہ ماہرين کي شرکت کے ساتھ مٹنگيں اور معاونين کے درميان گفتگو ہو - اس بات پر اس سے پہلے استنبول ميں بھي تاکيد کي جاچکي ہے - ليکن اب دو مہينے کي تاخير سے گروپ پانچ جمع ايک نے تسليم کيا ہے کہ ماہرين کے درميان مذاکرات ہونے چاہئيں

  ايران کي اعلي قومي سلامتي کونسل کے سيکريٹري ڈاکٹر سعيد جليلي نے گروپ پانچ جمع ايک کے اس فيصلے کا خير مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ايران ماہرين کے مذاکرات ميں قانوني اور سياسي دونوں نقطہ نگاہ سے اپني حقانيت ثابت کرنے ، مذاکرات کو مذاکرات برائے مذاکرات کي حالت سے نکال کے بامقصد بنانے اور نظريات کو نزديکتر لانے ميں تعاون  کے لئے تيار ہے -

ظاہر ہے کہ اگر مذاکرات سنجيدگي اور اعتماد سازي  کے ساتھ ہوں  تو يورينيم کي افزودگي کے تعلق سے ايران کے مسلمہ حق کو تسليم کرنا ہوگا - کيونکہ ايران کي ايٹمي سرگرميان اين پي ٹي ميں بيان کردہ حقوق اور اصولوں کے مطابق ہيں اور آئي اے اي اے کي نگراني ميں انجام پارہي ہيں- اس لئے ايران منطقي اور شفاف اقدامات اور مذاکرات کا استقبال کرتا ہے اور مختلف ملکوں کے ساتھ گفتگو اور وسيع تر تعاون کے لئے تيار ہے -.......

/169