18 جون 2012 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے نائـب وزیر خارجہ حسین امیر عبداللھیان نے بحرین کے امور میں سعودی عرب کی مداخلت کو ایک اسٹریٹیجک غلطی قرار دیا ہے۔

ابنا: حسین امیر عبداللھیان نے لبنان سے شائع ہونے والے اخبار الجمھوریہ کو انٹرویو دیتے ہوۓ سعودی عرب کے فوجیوں کی جانب سے ملت بحرین کے کچلے جانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بحرین میں سعودی عرب کی مداخلت ایک اسٹریٹیجک غلطی ہے اور بحرین کے بحران کا واحد حل سیاسی اقدامات ہیں۔
حسین امیر عبداللھیان نے تہران اور ریاض کے تعلقات کے بارے میں کہا کہ تہران اور ریاض کے درمیان کوئي تنازعہ نہیں ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران سعودی عرب کو عالم اسلام کا ایک اہم ملک جانتا ہے اور اس کے ساتھ مذاکرات پر تاکید کرتا ہے۔
حسین امیر عبداللھیان نے شام کے سلسلے میں خلیج فارس کے ساحلی ممالک کے تضادات کے سلسلے میں بھی اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ شام کو اس وقت دہشتگردی اور غیر ملکی مداخلت کا سامنا ہے لیکن ملت اس ملک کے عوام صدر بشار اسد کی جانب سے کی جانے والی اصلاحات کے نتیجے میں بحران پر قابو پانے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
حسین امیر عبداللھیان نے لبنان میں خانہ جنگی شروع کرانے کی سازش کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ لبنان کی حکومت ، عوام اور استقامت کسی کو بھی اس ملک میں خانہ جنگي کی سازش میں کامیاب ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اور چونکہ لبنان اور خطے کی سلامتی اسلامی جمہوریہ ایران کی سلامتی کے مترادف ہے اس لۓ صیہونی حکومت کی جانب سے لاحق خطرات کی صورت میں ایران لبنان کا ساتھ دے گا۔
دوسری جانب سعودی عرب کی جانب سے یمن کے صوبے صعدہ کا اقتصادی محاصرہ کرنے کی کوشش کی وجہ سے اس علاقے کے باشندوں میں اشتعال پیدا ہوگيا ہے۔ اور انھوں نے آل سعود کے اقدامات کی مذمت کی ہے۔
....... 
/169