ابنا: ايک ٹی وی انٹر ويو ميں انہوں نے کہا کہ جب وہ وزير خارجہ تھے اس وقت پاکستان ميں فوجي آمريت کا خاتمہ ہوا تھا اور جمہوريت کو آزادي ملي تھي اور اس وقت بھي پاکستان کے ساتھ تعلقات ميں بہتري کے حوالے سے مثبت اقدامات کئے گئے تھے۔انہوں نے کہاکہ دہشتگردي کا ڈھانچہ تباہ کرنا صدر پاکستان کا کام نہيں يہ پاکستاني اتھارٹيز کا کام ہے، انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا اس وقت بھي موقف يہي تھا کہ ممبئي حملوں کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائي کي جائے اور آج بھي ہندوستان یہی کہتاہے انہوں نے اس سوال کے جواب ميں کہا کہ صدر آصف علي زرداري نے اقتدار ميں آنے کے بعد ہندوستان کو کئي يقين دہانياں کرائي تھيں ليکن آج تک وہ پوري نہيں ہوسکيں پرنب مکھرجی نےصدرپاکستان اور وزير اعظم کوذاتی طورپرسراہتےہوئےکہاکہ ہندوستان ،پاکستان ميں شخصيات کے حوالے سے بات نہيں کرتا بلکہ ہندوستانی حکومت ،پاکستانی حکومت کے رويہ کو ديکھتي ہے۔ بيک ڈور ڈپلو ميسي کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ يہ باتيں عوامي سطح پر کي جانے والي نہيں ہیں تاہم بيک ڈور ڈپلوميسي اپنانے کي ضرورت پيش نہيں آني چاہئے۔.......
/169