ابنا: مرحوم والی کے اہلخانہ کے ساتھ حالیہ ملاقات میں رہبر معظم انقلاب اسلامی کے بیانات کا منتخب حصہ مندرجہ ذیل ہے: بسم اللہ الرحمن الرحیم مرحوم حاج عبداللہ والی ایک ایسے انسان ہیں جن کا نام ملک کی تاریخ اور انقلاب کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہےگا، ان کا نام نیکی کے ساتھ لیا جائےگااللہ تعالی ان کے درجات کو بلند و بالا فرمائے۔ اس کے باوجود کہ میں نے ان کو قریب سے نہیں دیکھا اور مجھے یاد نہیں ہے کہ میں نے کبھی ان کے ساتھ ملاقات بھی کی ہو، لیکن دور دور سے ان کو پہچانتا ہوں ، مجھے معلوم تھا کہ وہ بشاگرد میں گرانقدر خدمات میں مشغول ہیں ، اس علاقہ کو بھی میں جانتا تھا، خود ان کے بقول ، پیش گرد، جب ہم ایرانشہرمیں تھے اور ایرانشہر سے میناب کی طرف جاتے تھے تو بعض آشنا افراد دلکان اور بشاگرد میں ہم سے ملنے آتے تھے چونکہ دلکان اور بشاگرد دونوں میناب کے راستے میں واقع ہیں۔بعض دوست و احباب زحمت اٹھا کر ہمارے پاس آتے تھے کبھی بشاگرد سے بھی لوگ آتے تھے۔ ایک دن ایک بزرگ آدمی آیا جو علاقہ کے ایک مولوی کی حیثیت سے تھا البتہ مولوی نہیں تھا صاحب علم بھی نہیں تھا،ایک سفید کپڑا سر پر لپیٹا ہوا تھا، اس کا نام کیا تھا مجھے یاد نہیں ہے، اس نے اس علاقہ کی پسماندگی اور فقر کے بارے میں شکایت کی تھی۔ اس نے ایک جملہ کہا اور وہ جملہ اتنا اچھا اور خوبصورت تھا جو تیس سال سے زائد عرصہ کے بعد بھی مجھے یاد ہے، اس نے کہا" هاي هايِ آب است و واي وايِ نان " یعنی دلکان کے اس طرف پانی کی کثرت اور بہتات ہے لیکن زمین نہیں ہے جس کے نتیجے میں روٹی نہیں ہے انقلاب سے قبل اس علاقہ میں کلی طور پر خارجی وجود نہیں تھا یعنی حکومتی اداروں کی اس علاقہ پر کوئی توجہ نہیں تھی۔ پھر انقلاب کے بعد، ایک انقلابی ، مؤمن جوان کھڑا ہوجاتا ہے اور اس علاقہ میں پہنچ جاتا ہے اور اپنے تمام متعلقہ امور کو، گھر ، زندگی اور شہر سے اپنی ماموریت کے مرکز میں منتقل کرتا ہے، اپنے بھائیوں کو بھی اپنے ہمراہ لے جاتا ہے اور آپ لوگوں نے بھی انصاف کے ساتھ اس کا ساتھ دیا ۔۔۔ آپ نے بھی اپنی زندگی کے امور، اہلخانہ ، بچوں، ماں باپ اور دیگر تمام آسائشوں کو ترک کردیا اور اس کے ساتھ جاکر خاموشی کے ساتھ خدمت میں مشغول ہوگئے۔ نہ ہی کسی جگہ نام لکھوایا اور نہ ہی کوئی بورڈ لگایا۔ بعض لوگ ایسے ہیں جو کام کرنے سے پہلے ہی اپنا بورڈ لگا دیتے ہیں! اور یہ بورڈ نصب ہونے کے باوجود کوئی کام انجام پذیر نہیں ہوتا، لیکن بعض لوگ ایسے ہیں جو بغیر بورڈ نصب کئے کام کرتے ہیں جو کسی نام و نمود کے بغیر کام کرتے ہیں جناب حاج عبداللہ والی اور آپ حضرات کا کام بغیر بورڈ والے کاموں کے ہے جس میں نام و نمود بالکل نہیں۔ آپ بورڈ لگانے کے بغیر گئے اور آپ نے حقیقت میں اللہ تعالی کے لئے کام انجام دیا اور یہ گرانقدر کام ہے آپ یقین جان لیں کہ مخلصانہ ،نام و نمود ، شور و غل اور بورڈ کے بغیر اس قسم کے کام اللہ تعالی کے نزدیک آپ کا درجہ اور مرتبہ بناتے ہیں۔ اور اس کے ساتھ اسلامی جمہوری نظام کی عمارت کو مضبوط بناتے ہیں یہ کام اس سیمنٹ کے مانند ہیں جو عمارت کو مضبوط بنانے کے لئے لگائی جاتی ہے اور اس قسم کے کاموں سے اسلامی جمہوریہ ایران کی عمارت مضبوط اور مستحکم ہوتی ہے کسی کو معلوم نہ ہو یعنی ملک کے اکناف و اطراف میں ایسے لوگ بھی جو اللہ تعالی کے لئے کام کرتے ہیں ، مخلصانہ طور پر کام کرتے ہیں، شور و غل اور نام و نمود کے پیچھے نہیں ہیں۔ تعریف ، تحسین اور تمجید کے پیچھے بھی نہیں ہیں اور ان کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ ذاتی طور پر اس عمارت کو مضبوط بناتے ہیں جیسے ایک روح کسی جسم و بدن میں ڈال دی جائے بہر حال آپ کے اس قسم کے امور گرانقدر ہیں۔ اس اخلاص اور کام کا جاری رکھنا بہت ہی گرانقدر اور قابل تعریف ہے اس قسم کے معنوی کاموں ، توسلات، دعاؤں اور اذکار کے جاری و ساری رکھنے کے بارے میں روایات موجود ہیں روایت میں ہے کہ جو کام آپ انجام دیں اس کی کم سے کم مدت ایک سال ہو مثال کے طور پر آپ ایک مستحب نماز کو ہر شب یا ہفتہ میں ایک دفعہ پڑھنا چاہیں تو اس مستحب عمل کو کم سے کم ایک سال تک جاری رکھیں اگر چہ بہتر ہے کہ اس مستحب عمل کو اپنی آخری عمر تک جاری رکھیں۔یعنی اصل کام کے علاوہ کام کو جاری رکھنا ایک دوسرا عنصر ہے ."فلذلك فادع و استقم كما امرت" (2). استقامت یعنی کام کو اسی طرح اور درست سمت میں جاری رکھنا، الحمد للہ آپ نے استقامت کا مظاہرہ کیا۔۔ ایک بات میں خواتین بالخصوص شوہردار خواتین سے کہنا چاہتا ہوں؛ کہ اس کام کو انجام دینے کے ثواب میں آّپ کا بہت بڑا حصہ ہےکیونکہ اگر آپ اس کام میں اپنے شوہروں کا ساتھ نہ دیتیں ان پر اعتراض کرتیں ان سے جھگڑا کرتیں ، کہتیں یہ کیسی حالت ہے؟ یہ کیسی زندگی ہے؟ یہاں پر تو روٹی بھی نہیں ملتی ، تو آپ کے شوہروں کی ہمت ختم ہوجاتی، بہر حال انسان کے اندر کتنا بلند حوصلہ کیوں نہ ہو پھر بھی اسطرح کام نہیں کرسکتا، یہ آپ کے تعاون اور ہمراہی کی بدولت ہمت کے ساتھ جرائت کے ساتھ وہاں گئے اور خواتین کی یہ ہمراہی بہت ہی اہم بات ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 1: حاج عبد اللہ والی عمل اور جہاد کا ایک درخشاں اسوہ اور نمونہ ہے جس نے امام خمینی (رہ) کی اس آواز ( بشاگرد کو آباد کرو) پر لبیک کہی اور بشا گرد کو آـاد کرنے کے لئے اپنے دوستوں اور بھائیوں کے ساتھ روانہ ہوگئے، بشاگرد ایک محروم اور پسماندہ علاقہ ہے، حاج عبد اللہ نے کئی سال تک بشاگرد کے رہنے والوں کے ساتھ گزارے اور 23 سال تک اس محروم علاقہ کی ترقی و پیشرفت کے لئے مخلصانہ طور پر تلاش و کوشش کی اور اس محروم علاقہ کو پسماندگی کی سطح سے نکالنے میں کامیاب ہوگئے انھیں جہاد و تلاش کا بہترین نمونہ اور مظہر کہا جاسکتا ہے انھوں نے بشاگرد میں اس جہاد کا آغاز 1361 ہجری شمسی میں کیا اور آٹھ اردیبشہت 1384 ہجری شمسی میں ان کی وفات ہوگئی ۔ ان کی روح شاد رہے۔ ......./169
14 جون 2012 - 19:30
News ID: 322460
رہبرمعظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے مرحوم حاج عبداللہ والی (1)کے ایام سالگرہ کی مناسبت سے ان کے اہلخانہ کے ساتھ ملاقات میں عمل اور کام میں استقامت کے برکات اوراخلاص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اسلامی جمہوریہ کے پورے نظام کی عمارت میں مخلصانہ اور بغیر شور و غل کے انجام پانے والےکام اس عمارت کو مضبوط اور مستحکم بنانے میں بہت ہی مؤثر وا قع ہوتے ہیں۔