14 جون 2012 - 19:30

افغانستان کے صدر نے امریکہ اور افغانستان کے درمیان ہونے والے معاہدے پر ایران کی تحفظات کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائےگی۔

ابنا:  اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے کل کابل میں افغانستان کے موضوع پر ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے بعد افغانستان کے صدر حامد کرزائی کے ساتھ ملاقات کی اور تہران میں ناوابستہ تحریک کے رکن ممالک میں شرکت کے لئے ایرانی صدر احمدی نژاد کا دعوتنامہ پیش کیا، اس ملاقات میں ایرانی وزیر خارجہ نے افغانستان کی سرزمین پر امریکی فوجی اڈوں کے قیام پر ایران کی تشویش سے افغان صدر کو آگاہ کیا ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادی پائدار امن قائم نہیں کرسکتے بلکہ افغان قوم اپنے ملک میں پائدار امن قائم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں انھوں نے کہا کہ امریکہ اپنے اہداف کی پيجھے ہے اور اسے کسی بھی ملک کی امن و سلامتی سے کوئي تعلق نہیں ہے امریکہ امن کے نام پر دوسرے ممالک میں بدامنی پھیلاتا ہے انسانی حقوق کے نام پر انسایت کا قتل کرتا ہے جمہوریت کے نام پر ڈکٹیٹروں کی حمایت کرتا ہے۔ اس ملاقات میں افغانستان کے صدر نے کہا کہ افغان سرزمین ایران کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائےگی اور ایران اور افغانستان کے باہمی روابط اس دور میں جیسے ایسے کبھی نہیں تھے کرزائی نے کہا کہ ایران کے ساتھ ہمارے ثقافتی ، تاریخی اور مذہبی روابط ہیں جن پر خدشہ وارد کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائےگی۔......./169