ابنا: برطانيہ کے جنگ مخالف اتحاد کي کال پر جمعرات کو ہونے والے مظاہرے ميں لوگوں نے شام کے امور ميں برطانيہ اور ديگر ممالک کي مداخلت کي شديد الفاظ ميں مذمت کي۔ مظاہرے ميں برطانيہ ميں مقيم شام کے شہريوں نے بھي شرکت کي۔ مظاہرين نے ايک خط برطانوي وزير اعظم ڈيوڈ کيمرون کے دفتر کو سونپا جس ميں متعدد کارکنوں کے دستخط تھے۔اس خط ميں شام ميں جاري تشدد کي مذمت کرتے ہوئے برطانوي وزير اعظم سے مطالبہ کيا گيا ہے کہ شام کے سلسلے ميں مداخلت پسندانہ پاليسيوں پر عمل نہ کريں۔ جنگ مخالف اتحاد کے رہنما جان ريس نے شام ميں مغرب کي فوجي مداخلت کے سلسلے ميں کہا کہ عراق، افغانستان، اور ليبيا ميں مغرب کي مداخلت سے ثابت ہو گيا کہ اس طرح کے اقدامات سے عوام کو کوئي مدد نہيں ملتي اور دوسري بات يہ ہے کہ شام کے حالات مختلف ہيں اگر اس ملک ميں فوجي مداخلت کي گئي تو پورا علاقہ بہت بڑے بحران سے دوچار ہو جائے گا۔ جان ريس نے کہا کہ امريکا اور برطانيہ اقوام متحدہ ميں اپني مرضي کي قرارداد پاس کروانے ميں ناکامي کے بعد اب يہ کوشش کر رہے ہيں کہ جس طرح بھي ممکن ہو شام کي حکومت کو گرا دیں۔......./169
14 جون 2012 - 19:30
News ID: 322437
لندن ميں سماجي کارکنوں اور جنگ مخالف تنظيموں کے ارکان نے وزير اعظم کے دفتر کے سامنے جمع ہوکر شام کے داخلي امور ميں مغرب کي ہر قسم کي مداخلت کي مذمت کا اعلان کیا۔