14 جون 2012 - 19:30

افغانستان کے مستقبل کے بارے میں علاقائی اجلاس آج سخت حفاظتی انتظامات کے ساتھہ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں منعقد ہوا ۔

ابنا: اس ایک روزہ اجلاس میں دہشتگردی کے خلاف مہم ۔ قدرتی آفات ۔ تعلیم و تربیت ۔ تجارت کے فروغ ۔ اقتصادی تعاون کی توسیع ۔ منشیات کے خلاف مہم اور علاقائی بنیادوں کی تقویت کے شعبے میں تعاون جیسے مسائل کا جائزہ لیا گیا ۔ کابل اجلاس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سمیت پندرہ علاقائی اور بارہ دیگر ملکوں کے حکام کے علاوہ اقوام متحدہ سمیت تیرہ علاقائی و بین الاقوامی تنظیموں نے شرکت کی ۔ افغانستان کے بارے میں اس طرح کا یہ کوئی پہلا اجلاس نہیں تھا مگر خود افغانستان کے ہی دارالحکومت کابل میں اس اجلاس کاانعقاد اس اعتبار سے اہمیت کا حامل رہا کہ افغانستان کی حکومت اس قسم کا اجلاس منعقد کرنے کی توانائی رکھتی ہے جس سے کابل کی حکومت پر عالمی سطح پر اعتماد بھی بڑھا ہے ۔ البتہ اس طرح کے اجلاس کو موثر بنانے کیلئے مختلف قسم کے مسائل و مشکلات کے پیش نظر اہم فیصلئے اختیار کئے جانے کی ضرورت ہے ۔ افغانستان کے حالات پر نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ افغانستان کے پڑوسی اور تمام علاقائی ملکوں نے اس ملک کے مسائل و مشکلات کے حل میں قابل ذکر کردار ادا کیا ہے مگر سنہ 2001 میں افغانستان پر امریکہ اور پھر نیٹو کے قبضے کے بعد انھوں نے نہ صرف افغانستان کے مسائل میں پڑوسی ملکوں کا کردار محدود کرنے کی کوشش کی بلکہ ان پر طرح طرح الزامات عائد کرکے اپنی پوزیشن مستحکم بنانے کی پالیسی بھی اختیار کی تاہم اب جبکہ ایک عشرہ گذرجانے کے بعد ایسی حالت میں کہ امریکہ اور نیٹو خود کو افغانستان کےبحران میں گھرا پا رہے ہیں وہ علاقائی ملکوں کی امداد و تجربات سے استفادہ کرکے خود کو نجات دلانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ اس رو سے افغانستان پر قبضہ جمانے والے ملکوں نے عملی طور پر اس بات کو ثابت کردیا کہ وہ افغنستان میں پڑوسی اور علاقائی ملکوں کے موثر کردار کے خواہاں نہیں ہیں اور انھیں وہ افغانستان میں اپنے مقاصد آگے بڑھانے کیلئے صرف ایک ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان کے بارے میں پڑوسی ملکوں کی شرکت سے جو اجلاس تشکیل پائے ہیں وہ امریکہ کی خلاف ورزیوں کی بناء پر خاطر خواہ نتائج کے حامل نہیں رہے ہیں ۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اس قسم کے اجلاسوں کی کامیابی کا دارومدار، افغانستان کے مسائل کے حل میں پڑوسی ملکوں کے کردار پر توجہ اور کسی ایک کی منمانی سے گریز کرتے ہوئے اس ملک کے مسائل کے حل میں علاقائی و عالمی سطح پر بھرپور شراکت پر ہے اسلئے کہ افغانستان کے حوالے سے قابض ملکوں کے فوجی اور بے سوچے سمجھے اقدام سے اس ملک میں تشدد و بدامنی اور خونریزی میں اضافے ۔ دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیاں جاری رہنے ۔ معاشی حالات ابتر ہونے اور سرانجام منشیات کی پیداوار و اسمگلنگ بڑھنے کے سوا اور کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے جس نے پورے علاقے کی سلامتی کو خطرے سے دوچار کردیا ہے ۔......./169